برطانیہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی حکومت نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات اور خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی سرگرمیوں کے جواب میں ایران کے خلاف نئی اور سخت پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ان تنظیموں اور افراد کو نشانہ بنانا ہے جو برطانیہ اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا عندیہ

برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات ایران کی جانب سے بیرون ملک مخالفین پر حملوں کی روک تھام اور ایرانی حکومت کے لیے غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کو بلاک کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ ان پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں وہ مجرمانہ گروہ بھی شامل ہیں جنہیں ایران مبینہ طور پر برطانیہ اور یورپ میں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ برطانیہ ان نیٹ ورکس کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو برطانوی گلیوں میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے یا مشرق وسطیٰ کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان کارروائیوں کو مربوط بنا رہے ہیں اور ہمارا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنا اور عالمی معیشت میں پڑنے والے خلل کو ختم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے ایران پر پابندیاں مسترد کردیں

 برطانوی حکومت نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

نئی پابندیوں کے تحت بریلین ایکسچینج، جی سی ایم ایکسچینج اور زیندشتی نیٹ ورک سمیت کئی اداروں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد اہم شخصیات پر سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق اب تک 550 سے زائد ایرانی افراد اور تنظیموں پر پابندیاں لگائی جاچکی ہیں جن میں پاسداران انقلاب بھی شامل ہیں۔ برطانیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طویل مدتی سفارتی حل اور مذاکرات کے ذریعے تصفیے کا حامی ہے، تاہم قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد پر پابندیوں کا اعلان

اس سلسلے میں برطانوی وزیراعظم نے ہوم آفس کو ریاستی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کو تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، اب کیا ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ