والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جدید دور کے والدین خود کو پہلے کی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تھکا ہوا اور نیند سے محروم محسوس کرتے ہیں تاہم اس کی وجہ صرف کم نیند نہیں بلکہ بدلتا طرز زندگی، سماجی دباؤ اور خاندانی نظام میں آنے والی تبدیلیاں بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قدیم دور کے انسانی ڈھانچوں میں پایا جانے والا وائرس آج بھی لوگوں کے پیچھے

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ نومولود بچوں کی دیکھ بھال ہمیشہ سے والدین کے لیے ایک مشکل مرحلہ رہی ہے لیکن قدیم زمانے میں لوگ آج کی طرح شدید ذہنی اور جسمانی تھکن محسوس نہیں کرتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ پرانے معاشروں میں بچوں کی پرورش اجتماعی انداز میں ہوتی تھی جہاں خاندان اور قریبی لوگ والدین کی مدد کرتے تھے جبکہ آج زیادہ تر والدین اکیلے ہی بچوں کی دیکھ بھال اور ملازمت دونوں ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جدید والدین کی نیند کا دورانیہ ہمیشہ اتنا کم نہیں ہوتا جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق چھوٹے بچوں کے والدین اوسطاً سات سے آٹھ گھنٹے تک نیند لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خود کو زیادہ تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

قدیم معاشروں لوگ نیند سے مطمئن رہتے تھے

ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ نیند کے بارے میں بدلتی توقعات بھی ہیں۔ جدید معاشروں میں مسلسل اور گہری نیند کو مثالی سمجھا جاتا ہے جبکہ قدیم انسانی معاشروں میں رات کے دوران بار بار جاگنا ایک معمول تھا۔ شکاری اور خوراک جمع کرنے والے قدیم معاشروں پر کی گئی تحقیق سے پتا چلا کہ وہاں لوگ رات میں کئی بار جاگتے تھے مگر پھر بھی اپنی نیند سے مطمئن رہتے تھے۔

مزید پڑھیے: انسان کے مزاج کتنی اقسام کے، قدیم نظریہ کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے والدین رات میں بچے کی دیکھ بھال کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہیں وقت نوٹ کرتے ہیں یا مکمل طور پر بیدار رہنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے دوبارہ نیند آنا مشکل ہو جاتا ہے اور تھکن بڑھتی ہے۔

دودھ پلانے والی مائیں نسبتاً بہتر نیند پاتی ہیں

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دنیا کے کئی قدیم اور روایتی معاشروں میں مائیں بچوں کو اپنے قریب سلاتی تھیں اور رات کے وقت دودھ پلانے کا عمل زیادہ قدرتی انداز میں ہوتا تھا جس سے نیند کم متاثر ہوتی تھی۔ بعض مطالعات کے مطابق دودھ پلانے والی ماؤں کو فارمولا دودھ استعمال کرنے والی ماؤں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر اور زیادہ نیند ملتی ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جدید زندگی میں ملازمت، مالی دباؤ، کم سماجی تعاون اور کم وقفے سے زیادہ بچوں کی پیدائش والدین کی تھکن میں اضافہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین اکثر گھر اور ملازمت دونوں ذمہ داریاں نبھانے کے باعث زیادہ ذہنی اور جسمانی دباؤ محسوس کرتی ہیں۔

مومسومنیا کا حل

مومسومنیا ایک غیر رسمی مگر مقبول اصطلاح ہے جو عموماً ماؤں کی نیند کی کمی، رات بھر جاگنے اور مسلسل تھکن کی کیفیت بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ لفظ ’مام‘ اور ’اِنسومنیا کو ملا کر بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے ’مقامی لوگوں کا عالمی دنیا‘

نئی ماؤں میں ’مومسومنیا‘ یعنی بچوں کی دیکھ بھال کے باعث نیند کی مسلسل کمی ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسان فطری طور پر ابتدائی والدین بننے کے دور میں کم نیند برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن جدید معاشرتی حالات نے اس مرحلے کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 44 ہزار سال قدیم بھیڑیے کا پوسٹ مارٹم کیوں کیا گیا؟

ان کے مطابق والدین اگر نیند کے بارے میں غیر ضروری دباؤ کم کریں مدد طلب کریں اور بچے کی دیکھ بھال کے دوران خود کو مکمل طور پر تنہا نہ سمجھیں تو اس سے ذہنی دباؤ اور تھکن میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp