وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ملازمین کی جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے سنو ٹی وی کے اشتہارات بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ جب تک سنو نیوز کے صحافیوں کو ان کے واجبات ادا نہیں کیے جاتے، اس وقت تک ان کے اشتہارات معطل رہیں گے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی اسی طرز پر اقدامات کریں، کیونکہ میڈیا ورکرز کے حقوق کی پامالی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
جب تک سنو نیوز صحافیوں کو واجبات نہیں دیے جاتے ان کے اشتہارات بند ہونگے۔ ابھی پی آئی او کو کہا ہے کہ سنو نیوز کے اشتہارات بند کردیں۔ pic.twitter.com/rruSPKGLUS
— Riaz ul Haq (@Riazhaq) May 11, 2026
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ٹی وی چینل نے 170 ملازمین کو برطرف کیا ہے، اس کے اشتہارات فوری طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ ایک اور چینل جس نے 3 ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کیں، اس کے مالکان کو اسلام آباد طلب کیا گیا ہے تاکہ معاملے کو حل کیا جا سکے۔
جس ٹی وی چینل نے 170 ملازمین نکالے ہیں ان کے اشتہارات فل الفور بند کر دئیے ہیں، ایک اور ٹی وی چینل جس نے 3 ماہ سے تنخواہ نہیں دی ان کے مالکان کو اسلام آباد بلایا ہے، عطا تارڑ pic.twitter.com/cUVKbfaRhi
— Ziyad Ali Shah (@iamziyadalishah) May 11, 2026
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر صحافیوں کے روزگار کے تحفظ، جاب سیکیورٹی اور مراعات سے متعلق دیرینہ مسائل کے مستقل حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چل رہی ہے تاکہ میڈیا ورکرز کے مسائل کو اجتماعی طور پر حل کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور اسے ایک مثبت اور بروقت فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم بعض صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ محض اشتہارات کی بندش کے بجائے برطرف کیے گئے 170 ملازمین کی بحالی اور ان کے معاشی تحفظ کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جانے چاہییں۔














