یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ مچھر صرف آپ کو ہی کاٹتے ہیں جبکہ باقی لوگوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں؟ سائنسدان اب اس پیچیدہ کیمیائی عمل کو سمجھنے میں پیشرفت کر رہے ہیں جو کچھ لوگوں کو ان بیماری پھیلانے والے خون چوسنے والے مچھروں کے لیے زیادہ پُرکشش بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملیریا کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار، مچھروں کی مزاحمت توڑنے کا طریقہ دریافت

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فرانس کے ادارہ برائے تحقیق و ترقی کے ماہر حشرات فریڈرک سیمارڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ غلط فہمی نہیں ہے مچھر واقعی کچھ لوگوں کی طرف دوسروں کے مقابلے میں زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ہم ہر وقت مچھروں کے لیے مقناطیس نہیں بنتے۔

مختلف حسی اشارے مچھروں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ وہ کس انسان کو نشانہ بنائیں۔ ان میں خاص طور پر ہمارے جسم کی بو، جسم سے خارج ہونے والی حرارت اور سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔

صرف مادہ مچھر ہی انسان کو کاٹتی ہیں۔ وہ اپنے حساس ریسیپٹرز کے ذریعے ان اشاروں کو محسوس کرتی ہیں اور پھر اپنا شکار منتخب کرتی ہیں۔

سویڈن کے سائنسدان ریکارڈ اِگنیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم 100 سال سے جانتے ہیں کہ مچھر انسان کے خارج کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ پہلا اشارہ ہوتا ہے جو دور سے ہی ان کے رویے کو متحرک کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 میٹر کے فاصلے پر مچھر انسان کی جسمانی بو کو بھی محسوس کرنے لگتے ہیں اور جب یہ بو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ ملتی ہے تو مچھر مزید متوجہ ہوتے ہیں۔

جیسے جیسے مچھر قریب آتے ہیں جسم کا درجہ حرارت اور نمی بھی بعض لوگوں کو ان کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے۔

خون کی قسم اہم نہیں

اس موضوع پر کئی مشہور نظریات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

فریڈرک سیمارڈ کے مطابق یہ بات کہ مچھر مخصوص خون کی قسم کو زیادہ پسند کرتے ہیں کوئی سائنسی بنیاد نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے چند تحقیقات ضرور ہوئی ہیں لیکن ان میں بہت کم لوگوں کو شامل کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا تعلق جلد، آنکھوں یا بالوں کے رنگ سے بھی نہیں۔

البتہ جسم کی بو اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

سیمارڈ نے وضاحت کی کہ ہمارے جسم میں موجود مائیکرو بایوٹا مختلف کیمیائی مادّے پیدا کرتے ہیں اور یہی مرکبات مچھروں کے لیے زیادہ یا کم کشش رکھتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق انسان کے جسم سے 300 سے ایک ہزار تک مختلف خوشبو دار مرکبات خارج ہوتے ہیں لیکن سائنسدان ابھی تک یہ مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے کہ کون سے مرکبات مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں۔

حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ایڈیز ایجپٹائی نسل کے مچھروں کو جو ڈینگی اور ییلو فیور پھیلاتے ہیں ایک تجربہ گاہ میں 42 خواتین کے قریب چھوڑا تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ کن خواتین کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

ریکارڈ اِگنیل نے بتایا کہ ہم نے ثابت کیا کہ مچھر مختلف خوشبو دار مرکبات کے امتزاج کی بنیاد پر انسانوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایسے 27 مرکبات کی نشاندہی کی جنہیں مچھر محسوس کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن خواتین کو مچھر زیادہ کاٹتے تھے جن میں خصوصاً حمل کے دوسرے مرحلے میں موجود خواتین شامل تھیں ان کے جسم میں جلد کے تیل سیبم کے ٹوٹنے سے بننے والا ایک خاص مرکب زیادہ مقدار میں پایا گیا۔

اس مرکب کا نام ’ون آکٹین تھری اول‘ ہے جسے ’مشروم الکوحل‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اِگنیل کے مطابق اس مرکب میں معمولی اضافہ بھی مچھروں کی کشش بڑھا دیتا ہے اور وہ بات ہمارے لیے حیران کن تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مچھر واقعی حیرت انگیز مخلوق ہیں۔

بیئر پینے والے زیادہ نشانہ بنتے ہیں

متعدد تحقیقات کے مطابق بیئر پینے سے بھی مچھر زیادہ متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ اس سے جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، سانس کے ذریعے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے اور جلد کی بو میں تبدیلی آتی ہے۔

برکینا فاسو میں ہونے والی ایک تحقیق میں رضاکاروں نے پہلے بیئر پی پھر کچھ دن بعد پانی پیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ مچھر کس حالت میں زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ اینوفیلس مچھر جو ملیریا پھیلاتے ہیں بیئر پینے والوں کی طرف زیادہ راغب ہوئے۔

نیدرلینڈز میں 2023 میں ہونے والی ایک تحقیق میں 465 رضاکاروں نے اپنے بازو مادہ اینوفیلس مچھروں سے بھرے پنجروں میں رکھے۔

مزید پڑھیں: ہوائی کے جزیروں میں ڈرونز کے ذریعے ہزاروں مچھروں کی ‘بارش’ کیوں برسائی جارہی ہے؟

نتائج کے مطابق جن لوگوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں بیئر پی تھی وہ مچھروں کے لیے 1.35 گنا زیادہ پرکشش تھے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث مچھروں کا پھیلاؤ نئی جگہوں تک بڑھ رہا ہے اس لیے یہ جاننا پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ مچھر کچھ لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کیوں کاٹتے ہیں۔

مثال کے طور پر ٹائیگر مچھر جو چکن گونیا وائرس پھیلاتا ہے اب نئی علاقوں میں پھیل رہا ہے۔ گزشتہ سال یہ وائرس پہلی بار فرانس کے علاقے الساس تک پہنچ گیا۔

سیمارڈ نے خبردار کیا کہ یہ خطرہ اب زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔

مچھروں سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

ماہرین کے مطابق مچھروں سے بچنے کے لیے ڈھیلے اور پورا جسم ڈھانپنے والے کپڑے پہنیں، مچھر دانی استعمال کریں اور مچھر بھگانے والی دوا لگائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp