بھارت میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ، مرکزی بینک نے خبردار کردیا

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں اپریل کے دوران صارفین کے لیے مہنگائی کی شرح مسلسل چھٹے مہینے بڑھ کر 3.48 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو مارچ میں 3.40 فیصد تھی۔ اگرچہ حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عوام کو بچانے کے لیے فی الحال پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود مہنگائی کے گراف میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ اضافہ ماہرینِ معاشیات کے لگائے گئے 3.80 فیصد کے تخمینے سے کم رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کو ایک اور مصیبت کا سامنا، میکسیکو نے بھی 50 فیصد ٹیکس نافذ کر دیا

بھارتی وزارتِ شماریات کے مطابق خوراک کی مہنگائی، جو کہ کنزیومر پرائس انڈیکس کا اہم حصہ ہے، مارچ کے 3.87 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں 4.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر ڈی سبا راؤ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مہنگائی اسی طرح برقرار رہی تو یہ سپلائی چین کے جھٹکوں کو طلب کے بحران میں بدل سکتی ہے، جو مرکزی بینک کے لیے سخت تشویش کا باعث ہوگا۔

بھارت، جو اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی سپلائی کی رکاوٹوں کے سامنے انتہائی غیر محفوظ ہے۔ بھارت اپنی ایندھن کی ضروریات کا 85 فیصد درآمد کرتا ہے اور خام تیل کی 50 فیصد درآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے۔

مرکزی بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع بھارت کی اقتصادی ترقی اور مہنگائی کے اہداف کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی نئی دھمکی، بھارت سے چاول اور کینیڈا سے کھاد پر بھاری محصولات کا عندیہ

معاشی دباؤ کے باعث ریزرو بینک نے اپریل تا جون کی سہ ماہی کے لیے بھارت کی جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 6.9 فیصد سے کم کر کے 6.8 فیصد کر دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے ایندھن کا استعمال کم کریں، بیرونِ ملک سفر سے گریز کریں اور سونے کی خریداری فی الحال روک دیں۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو بھارتی حکومت کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp