سورج سے اٹھنے والے ایک طاقتور طوفان کے نتیجے میں آج رات (12 مئی 2026) امریکا کی شمالی ریاستوں اور برطانیہ کے کچھ حصوں میں آسمان پر خوبصورت ‘شمالی روشنیاں’ یا ارورا بوریلس نظر آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق سورج کے فعال حصے سے 10 مئی کو ایک طاقتور کلاس کا سولر فلیئر خارج ہوا تھا، جس کے ساتھ نکلنے والا مادہ اب زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکرانے کو تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے آسمان پر روشنیوں اور رنگینیوں کا رقص
نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر کے مطابق یہ خلائی مادہ تقریباً 650 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے۔ اگرچہ اس کا بڑا حصہ زمین سے دور گزر جائے گا، لیکن ایک ‘تیرتا ہوا جھٹکا’ زمین کی فضا سے ٹکرا کر معمولی نوعیت کا جیو میگنیٹک طوفان پیدا کرسکتا ہے۔
اس طوفان کی وجہ سے شمالی روشنیاں اپنے معمول کے دائرے سے تھوڑا جنوب کی طرف بڑھ سکتی ہیں، جس سے شمالی امریکی ریاستوں اور اسکاٹ لینڈ سمیت برطانیہ کے کچھ علاقوں میں سبز اور جامنی رنگوں کا حسین امتزاج نظر آسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سورج کے 2 طاقتور دھماکے، زمین پر جیومقناطیسی طوفان کا خدشہ
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سال 2026 شمسی سرگرمیوں کا عروج کا سال ہے، اس لیے ایسی روشنیاں نظر آنے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگرچہ یہ 2024 کے تاریخی شمسی طوفانوں جیسا شدید تو نہیں ہوگا، لیکن تاریک مقامات پر موجود لوگ آسمان کے شمالی افق پر ان رنگوں کا نظارہ کرسکیں گے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بہترین نظارے کے لیے شہر کی روشنیوں سے دور کسی اندھیری جگہ کا انتخاب کریں اور اپنی نظریں شمالی سمت میں جمائے رکھیں۔ اس دوران شارٹ ویو ریڈیو سگنلز میں معمولی خلل کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔














