لندن کے علاقے کینٹن میں واقع ایک یہودی عبادت گاہ پر پیٹرول بم حملے کے 10 روز بعد بھی جلی ہوئی دیواروں اور دھوئیں کی بو کے آثار موجود ہیں۔
یہ حملہ حالیہ مہینوں میں برطانیہ اور یورپ بھر میں یہودی مراکز، اسکولوں اور دیگر مقامات پر ہونے والی متعدد آتشزدگی کارروائیوں کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مانچسٹر: یہودی عبادت گاہ کے باہر حملہ، 2 افراد ہلاک، 2 ملزمان گرفتار
ان حملوں کی ذمہ داری ایک پراسرار آن لائن گروپ ’حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ‘ نے قبول کی ہے، جو خود کو صیہونی مفادات کے خلاف سرگرم قرار دیتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی تحقیقات کے مطابق اس گروپ کے مبینہ روابط ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں سے جوڑے جا رہے ہیں۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹیلیگرام سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو خفیہ طور پر بھرتی کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔
بعض اکاؤنٹس مبینہ طور پر اسرائیلی یا یہودی اہداف کے خلاف معلومات جمع کرنے، نگرانی اور تخریبی سرگرمیوں کے لیے رقم کی پیشکش کر رہے تھے۔
A CNN investigation, led by @JomanaCNN and @FlorenceDAttlee, has found what appear to be Iran-linked operatives using social media to attempt to recruit individuals to carry out potential violence against sites linked to the Jewish community in Europe. pic.twitter.com/tWE4S0aqHW
— CNN International PR (@cnnipr) May 11, 2026
اسرائیلی حکام کے مطابق متعدد اسرائیلی شہریوں پر ایران کے لیے جاسوسی کے الزامات میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
ان افراد پر حساس مقامات کی ویڈیوز بنانے اور معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔ بعض کیسز میں مبینہ طور پر حملوں اور قتل کی پیشکشیں بھی سامنے آئیں۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس امکان کا جائزہ لے رہی ہے کہ حملوں کے لیے جرائم پیشہ افراد کو ’پیسے کے عوض تشدد‘ کی حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے۔
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے بھی عندیہ دیا ہے کہ بعض واقعات کے پیچھے کسی غیر ملکی ریاست کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
ایران نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کے تعلق یا مداخلت کی تردید کی ہے۔
مزید پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا عندیہ
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے خفیہ بھرتیوں اور پراکسی نیٹ ورکس کا استعمال یورپ میں سیکیورٹی کے لیے ایک نیا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
یہودی برادری میں ان حملوں کے بعد خوف اور تشویش میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عبادت گاہوں اور کمیونٹی مراکز پر اضافی حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔














