امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے پاکستان کے کردار پر تنقید کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ان کے جنگی مؤقف اور ماضی کی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے خطے میں ثالثی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی زیر بحث لایا جا رہا ہے۔
تبصروں میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسے وقت میں خطے میں ثالثی، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ بڑی جنگ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس کردار پر خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کا شکریہ ادا کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ لنڈسے گراہم طویل عرصے سے دنیا بھر میں جنگی پالیسیوں کے حامی رہے ہیں اور عراق، لیبیا، شام، افغانستان، یوکرین اور ایران سمیت مختلف تنازعات میں امریکی مداخلت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

مختلف تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ ہر بڑے عالمی تنازعے میں لنڈسے گراہم مزید بمباری، مزید مداخلت، مزید امریکی فنڈنگ اور مزید فوجی اقدامات کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ کے معاملے پر نسبتاً آسانی سے گفتگو کرتے ہیں کیونکہ ان کے لیے جنگ ایک سیاسی مسئلہ ہے، جبکہ عام امریکی شہریوں کے لیے جنگ کا مطلب جنازے، مہنگائی، قرض، ذہنی دباؤ، ٹوٹتے خاندان اور تابوتوں میں واپس آنے والے فوجی ہیں۔
تبصروں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ لنڈسے گراہم نے خود ایک موقع پر مذاق میں کہا تھا کہ ’صحیح لڑکی اتنی سمجھدار تھی کہ اس کے پاس میرے لیے وقت نہیں تھا‘۔ ان کی کبھی شادی نہیں ہوئی، ان کے بچے نہیں ہیں اور وہ بطور سینیٹر آرام دہ زندگی گزارتے ہیں، اس لیے وہ ان مشکلات کو ذاتی طور پر محسوس نہیں کرتے جن کا سامنا متوسط طبقے کے امریکی خاندان ہر نئی جنگ کے دوران کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امن کوششوں کے خلاف مبینہ اسرائیلی پروپیگنڈا بے نقاب
تجزیوں میں کہا گیا کہ جنگوں کا اصل بوجھ فیکٹری مزدور، ٹیکس دہندگان، فوجی اہلکار اور ان کے خاندان اٹھاتے ہیں، جبکہ واشنگٹن کی ’وار کلاس‘ سیاسی فائدہ حاصل کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری تبصروں کے مطابق ایک ایسا سیاستدان جس نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ جنگوں کی حمایت میں گزارا ہو، اب اگر کسی ایسے ملک پر تنقید کرے جو امن مذاکرات اور ثالثی کی کوشش کر رہا ہو تو یہ خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو جنگ کے انسانی اور معاشی نقصانات کو سمجھ سکیں، نہ کہ ایسے سیاستدان جو عالمی سیاست کو ویڈیو گیم کی طرح دیکھتے ہوں۔
تبصروں میں مزید کہا گیا کہ 2 دہائیوں پر مشتمل ناکام جنگوں، کھربوں ڈالر کے اخراجات اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کے بعد اصل خطرہ سفارت کاری نہیں بلکہ وہ سیاستدان ہیں جو مسلسل نئی جنگوں کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔














