ترکیہ کے سرکاری نشریاتی ادارے سے وابستہ ایک نیوز اینکر کو مبینہ طور پر لائیو نشریات کے دوران خود کو ’فر ماں‘ (پالتو جانوروں کی ماں) کہنے پر مبینہ طور پر ملازمت سے نکال دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ میں مادریت، خاندانی اقدار اور شرحِ پیدائش میں کمی کے حوالے سے سماجی و سیاسی بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق امریکی سفارتکار نے بھارتی اینکر کو لائیو شو میں آڑے ہاتھوں لے لیا
رپورٹس کے مطابق اینکر نے 10 مئی کو بلیٹن کے اختتام پر ناظرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انہیں ابھی تک انسانی اولاد کی نعمت حاصل نہیں ہوئی تاہم وہ جانوروں کی دیکھ بھال میں اپنی زندگی کا مقصد پاتی ہیں۔ انہوں نے خود کو ’فر ماں‘ بھی قرار دیا۔
بعد ازاں مقامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ انتظامیہ نے اینکر کو نیوز بلیٹن کی ذمہ داری سے ہٹا دیا ہے اور ان کے خلاف داخلی انتظامی انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم ادارے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ متعلقہ اینکر نے بھی کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاپتا ماں کے باوجود معروف اینکر کی 2 ماہ بعد ٹی وی پر واپسی
یہ واقعہ اس وسیع تر بحث کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جو حالیہ عرصے میں ترکیہ میں خاندان کے تصور اور آبادیاتی رجحانات کے حوالے سے جاری ہے۔
اس سے قبل جرمن کمپنی کی جانب سے ترکیہ میں نشر کیے گئے ایک مدرز ڈے اشتہار پر بھی تنازع کھڑا ہوا تھا جس میں ماں اور پالتو جانوروں کے تعلق کو غیر واضح انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس اشتہار کو شدید ردعمل کے باعث واپس لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جواد احمد انٹرویو کے دوران اینکر سے الجھ پڑے، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
ترکیہ کی وزارتِ خاندان و سماجی خدمات نے اس مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مادریت کو کسی غیر روایتی انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسی دوران Radio and Television Supreme Council (RTÜK) نے بھی معاملے پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق ترکیہ میں شرحِ پیدائش مسلسل کم ہو رہی ہے جبکہ شادی کی اوسط عمر میں اضافہ اور شادی و طلاق کے رجحانات میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ، بالخصوص رہائش اور مہنگائی، بھی خاندانی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نیوز اینکر نے منفرد موزے جمع کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کرلیا
حکام اور بعض حلقوں کی جانب سے اس رجحان کو قومی سطح پر تشویش کا باعث قرار دیا جا رہا ہے جبکہ سماجی ماہرین کے مطابق یہ رجحانات صرف ثقافتی نہیں بلکہ معاشی عوامل سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔














