مصنوعی ذہانت سے لیس ’گوگل بک‘ متعارف، قیمت کیا ہے؟

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گوگل نے لیپ ٹاپ کی دنیا میں ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے اپنی نئی تخلیق ’گوگل بک‘ متعارف کروا دی ہے۔ یہ ڈیوائس روایتی آپریٹنگ سسٹمز سے ہٹ کر مکمل طور پر ’انٹیلیجنس بیسڈ کمپیوٹنگ‘ پر مبنی ہے، جسے مائیکروسافٹ کے کو پائلٹ پلس پی سیز کا سخت حریف قرار دیا جا رہا ہے۔

گوگل بکس کی سب سے بڑی خاصیت ان کا گوگل کے جدید ترین ’جیمنائی‘ اے آئی سسٹم کے گرد ڈیزائن ہونا ہے، جو صارف کے کام کرنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان میں تیارکردہ گوگل کروم بک مارکیٹ میں آنے والی ہے؟

تکنیکی لحاظ سے یہ ڈیوائسز کروم بکس سے کافی مختلف ہیں کیونکہ ان میں ایک جدید آپریٹنگ سسٹم (جو ممکنہ طور پر گوگل کے پروجیکٹ ایلومینیم سے منسلک ہے) استعمال کیا گیا ہے، جو اینڈرائیڈ ایپس کی مکمل سپورٹ فراہم کرتا ہے۔

 اس کے نمایاں فیچرز میں ’میجک پوائنٹر‘ شامل ہے، جو اسکرین پر موجود مواد کو سمجھ کر خودکار طریقے سے اقدامات کر سکتا ہے، جیسے ای میل سے ایونٹس شیڈول کرنا یا تصاویر کو یکجا کرنا۔ اس کے علاوہ صارفین اے آئی پرامپٹس کے ذریعے اپنی پسند کے ویجٹس بھی تیار کر سکیں گے۔ ان لیپ ٹاپس کو اینڈرائیڈ فونز کے ساتھ بھی گہرا مربوط کیا گیا ہے، جس سے ایپس اور فائلز تک فوری رسائی ممکن ہوسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل کے منافع میں 81 فیصد کا ریکارڈ اضافہ، کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کے کاروبار میں تاریخی تیزی

گوگل بکس کی تیاری کے لیے ایسر، اسوس، ڈیل، ایچ پی اور لینووو جیسے بڑے اداروں کے ساتھ شراکت داری کی گئی ہے، جبکہ اس کے ڈیزائن میں ’گلو بار‘ نامی ایک مخصوص لائٹ اسٹرپ بھی شامل کی گئی ہے۔

اگرچہ گوگل نے ابھی تک سرکاری طور پر قیمتوں کا اعلان نہیں کیا ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ روایتی کروم بکس کے مقابلے میں مہنگی ہوں گی اور ان کی قیمت مڈ رینج سے پریمیئم لیپ ٹاپس کے برابر ہونے کی توقع ہے، جو کہ جدید اے آئی ہارڈویئر اور فیچرز کی عکاسی کرتی ہے۔

گوگل بکس کی قیمت کے حوالے سے ابھی تک کمپنی نے کوئی حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم مارکیٹ کے ماہرین اور اس کے فیچرز کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ اندازے لگائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے ڈیجیٹل نظام خطرے میں، اے آئی سے ہونے والے سائبر حملے بے قابو، گوگل کی وارننگ

چونکہ یہ روایتی کروم بکس کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہارڈویئر اور جدید اینڈرائیڈ انٹیگریشن کے ساتھ آرہی ہیں، اس لیے ان کی ابتدائی قیمت 800 ڈالر سے 1,000 ڈالر (تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار سے 2 لاکھ 80 ہزار پاکستانی روپے) کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہائی اینڈ یا اعلیٰ ماڈلز، جن میں زیادہ ریم، بہتر پروسیسر اور مخصوص ’گلو بار‘ جیسے فیچرز شامل ہوں گے، ان کی قیمت 1,200 ڈالر سے 1,500 ڈالر (تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار سے 4 لاکھ روپے سے زائد) تک جا سکتی ہے۔

گوگل ان ڈیوائسز کو مائیکروسافٹ کے ’سرفیس‘ اور ایپل کے ’میک بک ایئر‘ کے مقابلے میں لا رہا ہے، اس لیے قیمتوں کا تعین بھی انہی برانڈز کے قریب ترین کیے جانے کی توقع ہے۔ پاکستان میں ان کی قیمت درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی وجہ سے عالمی قیمت سے کچھ زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم باضابطہ قیمتوں کا اعلان آنے والے چند ہفتوں میں متوقع ہے جب یہ لیپ ٹاپس باقاعدہ فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp