ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ‘الفابیٹ’ (گوگل) نے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج جاری کردیے ہیں، جس نے مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گوگل کے خالص منافع میں 81 فیصد کا ناقابلِ یقین اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نیٹ انکم 62.2 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔
اس غیر معمولی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ کمپنی کے کلاؤڈ بزنس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبوں میں ہونے والی تیز رفتار ترقی بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی میں ’کوڈ ریڈ‘ نافذ: گوگل کے ہاتھوں چیٹ جی پی ٹی کی برتری خطرے میں
گوگل کا مجموعی ریونیو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد اضافے کے ساتھ 110 ارب ڈالرز رہا۔ اس میں سب سے نمایاں کارکردگی ‘گوگل کلاؤڈ’ کی رہی، جس نے 20 ارب ڈالرز کا ریونیو پیدا کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق گوگل کلاؤڈ کے پاس موجود آرڈرز کا حجم بڑھ کر 460 ارب ڈالرز تک جا پہنچا ہے، جو مستقبل میں مزید ترقی کی نوید دے رہا ہے۔
گوگل کے سی ای او سندر پچائی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب کمپنی کے ہر حصے کو روشن کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرپرائز اے آئی ٹولز اور کمپیوٹنگ پاور کی بڑھتی ہوئی مانگ کمپنی کی ترقی کا اصل انجن ہے۔ گوگل کا اے آئی ماڈل جیمنی مارکیٹ میں کمپنی کی پوزیشن کو مزید مستحکم کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محض ایک ٹوئٹ نے گوگل کو 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا دیا، مگر کیسے؟
ان کا کہنا ہے کہ سرچ انجن میں اے آئی موڈ اور اے آئی اوور ویو جیسے فیچرز صارفین کے تجربے کو مکمل طور پر بدل رہے ہیں۔ سرچ انجن نے اکیلے اس سہ ماہی میں 60.4 ارب ڈالرز کا ریونیو پیدا کیا۔
گوگل اب صرف سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ہارڈ ویئر اور انفراسٹرکچر میں بھی بھاری سرمایہ کاری کررہی ہے۔ کمپنی نے رواں برس کے لیے اپنے اخراجات کا تخمینہ بڑھا کر 180 سے 190 ارب ڈالرز کے درمیان کر دیا ہے۔
گوگل نے حال ہی میں اپنی 8ویں جنریشن کے ٹینسر پروسیسنگ یونٹس متعارف کرائے ہیں اور اب کمپنی کا منصوبہ ہے کہ وہ یہ چپس براہِ راست صارفین کو فروخت کرے گی، جس سے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ پیدا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سرچ انجن گوگل کو 4.2 بلین ڈالر ہرجانے کا خطرہ
گوگل کی چیف فنانشل آفیسر اینات اشکینازی نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ یہ نتائج اے آئی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے ہمارے عزم کو پختہ کرتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ سال 2027 میں کمپنی کی سرمایہ کاری 2026 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی۔
ان شاندار مالیاتی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد اسٹاک مارکیٹ میں الفابیٹ کے شیئرز کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا، جو کمپنی کی اے آئی حکمتِ عملی پر سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔













