بھارت میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس میں انتہاپسند بھارتی ہندو گروہ رکھشا دل کے سربراہ بھوپندر تومر عرف پنکی چوہدری کو ایک فلاحی تقسیمِ خوراک کے دوران ایک غریب شخص سے کھانے کی پلیٹ چھینتے اور سخت متنازع جملے ادا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں وہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں ’ہم ملاؤں کو کھانا نہیں دیں گے چاہے کسی کو برا لگے، کسی مسلمان کو کھانا نہیں ملے گا‘ جبکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ’یہاں صرف ہندو آئیں، مسلمان نہ آئیں‘۔ اس واقعے نے فلاحی سرگرمیوں میں غیر جانبداری اور انسانی ہمدردی کے اصولوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
View this post on Instagram
اس تنازع نے ایک بار پھر بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور فلاحی کاموں میں شمولیت کے اصول پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، انسانی حقوق کے کارکنان اور سوشل میڈیا صارفین اس پر سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پنکی چوہدری اور ان کی تنظیم تنازع کی زد میں آئے ہوں۔ ماضی میں بھی ان پر اشتعال انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ بیانات اور پرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں جن پر انہیں عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔














