بیلجیم اور ترکیہ نے دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے 9 اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے ان معاہدوں کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی جانب بڑا قدم قرار دیا ہے۔
بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب یاشر گولر کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
یہ مذاکرات بیلجیم کی ملکہ میتھلڈے کی قیادت میں جاری 4 روزہ اقتصادی مشن کے دوران ہوئے۔ تھیو فرانکن نے انقرہ میں بیلجیئم کے سفیر کی رہائش گاہ پر منعقدہ دفاعی اور ایروناٹیکل نیٹ ورکنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کا دن ہے۔
یہ بھی پڑھیے یورپ ترکیہ کے بغیر نامکمل اور بحرانوں سے نمٹنے میں کمزور رہے گا، رجب طیب اردوان
بیلجیئم کی وزارت دفاع کے مطابق 6 دفاعی صنعتی معاہدوں پر بدھ کے روز انقرہ میں جبکہ مزید 3 معاہدوں پر پیر کے روز استنبول میں دستخط کیے گئے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی ’لیٹر آف انٹینٹ‘ پر دستخط کے ذریعے طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی بنیاد رکھ دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس سے لاحق خطرات اور نیٹو میں امریکا کے ممکنہ کم ہوتے کردار کے تناظر میں یورپی ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
بیلجیم نے اس موقع پر یورپی یونین کے 150 ارب یورو مالیت کے SAFE دفاعی پروگرام میں ترکیہ کی شمولیت کی بھی حمایت کی۔ یہ پروگرام یورپ کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے نائجیریا اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ، فوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق
تھیو فرانکن نے کہا کہ مذاکرات میں بیلجیئم اور ترکیہ کے درمیان سرمایہ کاری اور مشترکہ دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ترک ڈرونز کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقیناً ایک بہترین پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ یورپی خریداری قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔














