چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس ختم ہوگیا، جس میں ججز کے خلاف موصول ہونے والی شکایات اور کونسل کے داخلی احتسابی نظام کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کا پہلا ایجنڈا سپریم جوڈیشل کونسل کی اپنی خوداحتسابی سے متعلق تھا، جبکہ اجلاس کے دوران مختلف ججز کے خلاف دائر شکایات پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر
اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابقہ 6 ججز کی جانب سے لکھا گیا خط بھی زیر غور آیا، جس پر کونسل قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کا باضابطہ اعلامیہ بعد میں جاری کیا جائے گا، جس میں اجلاس کے فیصلوں اور سفارشات سے آگاہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے ایک حاضر سروس جج کے خلاف کارروائی صرف سپریم جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے، جسٹس خادم حسین
اجلاس کو عدالتی نظام میں احتساب اور شفافیت کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا تھا، جبکہ قانونی حلقوں کی نظریں کونسل کے ممکنہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔














