بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پولیس نے برآمدگی سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔
رپورٹ کے مطابق ملزمہ سے 1540 گرام کوکین، 5240 گرام بیکنگ پاؤڈر، 930 گرام ایفی ڈرین ہائیڈرو کلورائیڈ، 500 گرام کیٹامین ہائیڈرو کلورائیڈ، 330 گرام کوکین مکس ہائیڈرو کلورائیڈ اور ایک بیگ برآمد ہوا، جس میں 1050 گرام ایکٹون موجود تھا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق ملزمہ سے کوکین تیار کرنے میں استعمال ہونے والا 6970 گرام خام مال بھی برآمد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ سے برآمد ہونے والی اعلیٰ کوالٹی کی منشیات کا کیمیکل معائنہ کیا جائے گا اور اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی، جبکہ برآمد ہونے والی منشیات کو کیس پراپرٹی کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے گینگ کے ذریعے اسکولوں کے کم عمر بچوں کو ہدف بناتی تھی۔ گینگ شہر کے پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرتا تھا، جبکہ اسکولوں اور کالجوں میں زیادہ خریداری کرنے والوں کو رعایتی پیکجز بھی دیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے کوکین کوئین انمول پنکی نے اپنا ’جانشین‘ مقرر کردیا، کلائنٹس آگاہ کردیے گئے، آڈیو پیغام لیک
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ملزمہ کے نیٹ ورک کو روکنے کے لیے مزید تفتیش ضروری ہے، جبکہ پنکی کی نشاندہی پر تعلیمی اداروں میں موجود اس کے سہولت کاروں کی شناخت بھی کی جائے گی۔ عدالت نے پولیس رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔

دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے سندھ ہائیکورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پراسیکیوشن میں موجود خامیوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن میں مسائل ضرور ہیں، تاہم انہیں بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے انمول عرف پنکی کیسے کراچی میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات کا دھندا چلاتی تھی؟
ان کا کہنا تھا کہ پنکی کیس کی تفتیش میں پولیس کی جانب سے کوئی خلا نہیں چھوڑا گیا۔ ’اگر کوئی اور کچھ کہہ رہا ہے تو اسے کوتاہی قرار نہیں دیا جا سکتا، اصل صورتحال عدالت میں معاملہ آنے پر واضح ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے پر مزید تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔













