وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں تیزی سے بڑھتی آبادی کو قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے مؤثر اور مربوط قومی حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم نے آبادی سے متعلق قومی سطح پر پالیسی سازی کے لیے ’نیشنل پاپولیشن کونسل‘ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی صرف 20 فیصد آبادی کو صاف پانی نصیب، ایشیائی ترقیاتی بینک
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں بڑھتی آبادی کے مسائل سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں آبادی میں اضافے، وسائل پر دباؤ اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آبادی سے متعلق قومی پالیسی سازی کے لیے ’نیشنل پاپولیشن کونسل‘ قائم کی جائے گی۔ کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی شامل ہوں گے جبکہ وزیراعظم خود اس کی سربراہی کریں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وسائل اور آبادی کے درمیان توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی قومی وسائل پر دباؤ بڑھا رہی ہے اور ترقی کی راہ میں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت آبادی میں اضافے کی شرح کو قابو میں لانے کے لیے آگاہی مہم، صحت اور تعلیم کی سہولیات میں بہتری اور متوازن ترقی کے اقدامات پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آبادی کے بہتر انتظام کے لیے “ہول آف دی گورنمنٹ اپروچ” اختیار کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کا پہلا حق، امن و امان پر سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
انہوں نے عوامی آگاہی مہم میں علمائے کرام اور کمیونٹی رہنماؤں کو شامل کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ معاشرتی سطح پر مؤثر شعور اجاگر کیا جا سکے۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔ بریفنگ کے مطابق تمام صحت مراکز میں فیملی پلاننگ سہولیات کی فراہمی سے آبادی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی جبکہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو بھی فیملی پلاننگ سے منسلک کیا جائے گا۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا آبادی کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ فیملی پلاننگ سے متعلق آگاہی مہم بھی جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت برائے صحت ملک مختار احمد بھرتھ سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔












