پاکستان نے امریکا کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعے کے روز اسلام آباد میں امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور، پال کپور سے ملاقات کی، جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی امریکا کے لیے پروازوں کے جلد آغاز پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا لاہور سے لندن پروازیں بحال کرنے کا اعلان
ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، سیکیورٹی، دہشتگردی کے خلاف جنگ اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی تعریف کی۔
ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس تنازع کا پائیدار اور پرامن حل جلد تلاش کر لیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی پاک امریکا ایران سفارتکاری کے بعد پاکستان ایک اہم مصالحتی کردار ادا کررہا ہے، جس کے تحت اپریل میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی بھی پاکستان نے کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 13 سال بعد ڈھاکا سے کراچی کے درمیان پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ
پاکستانی حکام پرامید ہیں کہ فریقین کے درمیان جلد کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ مئی 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کے حادثے اور اس کے بعد پائلٹس کے مشکوک لائسنسوں کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات کے بعد امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین نے پی آئی اے پر پابندی عائد کردی تھی۔ تاہم گزشتہ سال یورپ اور برطانیہ کے لیے پروازیں ساڑھے چار سال بعد دوبارہ بحال ہوگئی تھیں۔
ستمبر 2025 میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی ٹیم نے بھی پاکستان کے ایوی ایشن معیار کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کیا تھا۔













