پاکستان میں ہر سال عید الاضحیٰ پر لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں، جن کی کھالیں معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ عام شہری کو شاید اندازہ نہ ہو کہ یہ کھالیں ملکی معیشت کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور چین کے درمیان چمڑے کی صنعت کے مشترکہ منصوبے کا معاہدہ
قربانی کے جانوروں کی کھالوں کو مختلف طریقوں سے جمع کیا جاتا ہے، ملک بھر کی بڑی مساجد، مدارس اور فلاحی تنظیمیں کھالیں جمع کرنے کے لیے کیمپ لگاتی ہیں۔ ان کے رضاکار گھر گھر جا کر بھی کھالیں اکٹھی کرتے ہیں۔ محلے کی سطح پر مساجد کھالیں جمع کر کے انہیں فروخت کرتی ہیں تاکہ مسجد ومدرسے کے اخراجات یا مقامی ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے۔
تجارتی ایجنٹس
چمڑے کی صنعت سے وابستہ چھوٹے بیوپاری اور مڈل مین بھی براہ راست شہریوں سے یا مدارس سے کھالیں خرید کر بڑی ٹینریز تک پہنچاتے ہیں۔ قربانی کی کھال ایک نازک شے ہے جو چند گھنٹوں میں خراب ہو سکتی ہے۔ اسے محفوظ بنانے کے لیے کھال کو اتارنے کے فوراً بعد اس پر وافر مقدار میں نمک لگایا جاتا ہے۔ یہ سب سے قدیم اور مؤثر طریقہ ہے جو کھال سے نمی نکال دیتا ہے اور بیکٹیریا کی افزائش کو روکتا ہے۔

کھال سے اضافی گوشت اور چربی کو صاف کیا جاتا ہے۔ اسے کسی ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر رکھا جاتا ہے تاکہ سورج کی براہ راست تپش سے چمڑا سخت ہو کر خراب نہ ہو۔ نمک لگانے کے بعد کھالوں کو خاص طریقے سے تہہ کر کے رکھا جاتا ہے تاکہ ان کا پانی نکل جائے اور وہ ٹینری پہنچنے تک گلنے سے محفوظ رہیں۔
فلاحی کیمپ سے فیکٹری تک
اکٹھی کی گئی کھالیں ایک منظم سپلائی چین کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچتی ہیں، سب سے پہلے کھالیں محلے کے کیمپوں میں جمع ہوتی ہیں۔ وہاں سے ٹرکوں کے ذریعے انہیں شہر کی بڑی منڈیوں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہاں سے کھالیں قصور، سیالکوٹ اور کراچی میں قائم ٹینریز میں جاتی ہیں۔
پراسیسنگ
چمڑے کے کاروبار سے وابستہ محمد وسیم کا کہنا ہے کہ ٹینری میں ان کھالوں کو کیمیکلز کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے، بالوں کو ہٹایا جاتا ہے اور اسے فنشڈ لیدر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ کھالیں پاکستان کی لیدر انڈسٹری کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ٹینریز میں تیار ہونے والا اعلیٰ معیار کا چمڑا عالمی مارکیٹ میں برآمد کیا جاتا ہے، جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس چمڑے سے جوتے، جیکٹس، بیگز، دستانے اور کھیلوں کا سامان تیار کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چمڑے کو اے بی سی گریڈ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اے گریڈ ملک سے باہر جاتا ہے جبکہ باقی مقامی انڈسٹری کے لیے میسر ہوتا ہے۔
محمد وسیم کا کہنا ہے کہ اگر کھال اتارتے وقت اس پر کٹ لگ جائے یا اسے بروقت نمک نہ لگایا جائے، تو اس کی قیمت میں 50 فیصد سے 70 فیصد تک کمی آ جاتی ہے، جو قومی معیشت کا بڑا نقصان ہے۔ جانور کی کھال ماہر افراد سے اتروانا چاہیے تاکہ اس چمڑے سے اچھا زرمبادلہ کمایا جاسکے۔











