شمسی توانائی سے چلنے والا ہائیڈروجیل فضا سے پینے کا صاف پانی بنانے میں کامیاب

اتوار 17 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی کے محققین نے ایک جدید ہائیڈروجیل تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی کی مدد سے فضا میں موجود نمی کو جذب کرکے صاف پینے کے پانی میں تبدیل کر سکتا ہے، حتیٰ کہ صحرائی علاقوں میں بھی۔

مزید پڑھیں:حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار

ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی اُن خشک اور بنجر علاقوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جہاں روایتی آبی وسائل محدود ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسیف کی 2025 رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی 2.1 ارب افراد محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ ہائیڈروجیل لیتھیم کلورائیڈ اور پولی ایکرائلامائیڈ پر مشتمل ایک اسفنج نما مادہ ہے۔ لیتھیم کلورائیڈ نمی جذب کرنے والی نمک کی ایک قسم ہے جبکہ پولی ایکرائلامائیڈ ایک پولیمر ہے جو عام طور پر ڈائپرز سمیت مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ مادہ ہوا میں موجود آبی بخارات کو جذب کرتا ہے اور جب سورج کی حرارت اس پر پڑتی ہے تو جذب شدہ نمی بخارات کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے، جسے بعد میں گاڑھا کرکے پینے کے صاف پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل چلی کے صحرائے اٹاکاما میں کیے گئے تجربات میں یہ نظام کامیاب رہا، تاہم ابتدائی مرحلے میں ہائیڈروجیل صرف 30 سائیکل تک مؤثر رہتا تھا، جس کے بعد اس کی ساخت متاثر ہونے لگتی تھی۔

محققین نے 4 سالہ تحقیق کے بعد معلوم کیا کہ ہائیڈروجیل کو سہارا دینے والی دھاتی سطح سے خارج ہونے والے آئنز اس کے اندر نقصان دہ کیمیائی ردعمل پیدا کرتے تھے، جس سے پولیمر ٹوٹنے لگتا تھا۔

مزید پڑھیں:سولر سسٹم صارفین کے لیے نیپرا لائسنس لازمی قرار، کتنی فیس ادا کرنی ہوگی؟

اس مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے دھاتی سطح پر اینٹی کورروژن کوٹنگ استعمال کی، جس کے بعد ہائیڈروجیل 8 ماہ سے زائد عرصے تک مستحکم رہا اور 190 سے زیادہ واٹر ہارویسٹنگ سائیکل کامیابی سے مکمل کیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد مستقبل میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟