امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی کے محققین نے ایک جدید ہائیڈروجیل تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی کی مدد سے فضا میں موجود نمی کو جذب کرکے صاف پینے کے پانی میں تبدیل کر سکتا ہے، حتیٰ کہ صحرائی علاقوں میں بھی۔
مزید پڑھیں:حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی اُن خشک اور بنجر علاقوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جہاں روایتی آبی وسائل محدود ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسیف کی 2025 رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی 2.1 ارب افراد محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ ہائیڈروجیل لیتھیم کلورائیڈ اور پولی ایکرائلامائیڈ پر مشتمل ایک اسفنج نما مادہ ہے۔ لیتھیم کلورائیڈ نمی جذب کرنے والی نمک کی ایک قسم ہے جبکہ پولی ایکرائلامائیڈ ایک پولیمر ہے جو عام طور پر ڈائپرز سمیت مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔
یہ مادہ ہوا میں موجود آبی بخارات کو جذب کرتا ہے اور جب سورج کی حرارت اس پر پڑتی ہے تو جذب شدہ نمی بخارات کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے، جسے بعد میں گاڑھا کرکے پینے کے صاف پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس سے قبل چلی کے صحرائے اٹاکاما میں کیے گئے تجربات میں یہ نظام کامیاب رہا، تاہم ابتدائی مرحلے میں ہائیڈروجیل صرف 30 سائیکل تک مؤثر رہتا تھا، جس کے بعد اس کی ساخت متاثر ہونے لگتی تھی۔
محققین نے 4 سالہ تحقیق کے بعد معلوم کیا کہ ہائیڈروجیل کو سہارا دینے والی دھاتی سطح سے خارج ہونے والے آئنز اس کے اندر نقصان دہ کیمیائی ردعمل پیدا کرتے تھے، جس سے پولیمر ٹوٹنے لگتا تھا۔
مزید پڑھیں:سولر سسٹم صارفین کے لیے نیپرا لائسنس لازمی قرار، کتنی فیس ادا کرنی ہوگی؟
اس مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے دھاتی سطح پر اینٹی کورروژن کوٹنگ استعمال کی، جس کے بعد ہائیڈروجیل 8 ماہ سے زائد عرصے تک مستحکم رہا اور 190 سے زیادہ واٹر ہارویسٹنگ سائیکل کامیابی سے مکمل کیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد مستقبل میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔














