قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ حکومت ملک میں شمسی توانائی کے فروغ اور حوصلہ افزائی کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ محدود وسائل کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ ایوان کو بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی تیل قیمتوں میں اضافے سے عوام کو بچانے کیلئے 129 ارب روپے کا فیول سبسڈی پیکج دیا گیا۔
قومی اسمبلی کو جمعہ کے روز آگاہ کیا گیا کہ حکومت ملک میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور نئی پروزیومر ریگولیشنز کے تحت سولر پاور سسٹمز کی تنصیب اب بھی عوام کے لیے پرکشش اور فائدہ مند ہے۔
یہ بھی پڑھیے 25 کلوواٹ تک سولر صارفین کے لیے لائسنس فیس ختم، نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری
وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ایوان کو بتایا کہ حکومت متبادل توانائی ذرائع کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام کو سستی اور پائیدار توانائی فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے صارفین کو بچانے کیلئے 129 ارب روپے کا فیول سبسڈی پیکج فراہم کیا گیا۔
وزیر مملکت نے مزید بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 716 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے نیٹ میٹرنگ میں تبدیلیاں: کیا سولر اب بھی صارفین کے لیے فائدہ مند رہے گا؟
دریں اثنا، توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی-12 میں ترقیاتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں الاٹیز کو قبضہ دینے کے آخری مرحلے کا آغاز کر دیا جائے گا۔
بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔














