صومالی قزاقوں نے اغوا کیے گئے بحری جہاز کے عملے کے 17 ارکان کی رہائی کے لیے پہلی بار باقاعدہ طور پر 3 ملین امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کردیا ہے۔
قزاقوں کے سرغنہ نے انصار برنی ٹرسٹ کو واٹس ایپ پر بھیجے گئے ایک پیغام میں واضح کیا ہے کہ رقم کی ادائیگی کے بعد ہی تمام یرغمالیوں، جہاز اور اس پر لادے گئے سامان کو چھوڑا جائے گا۔ قزاقوں نے تاوان کی رقم میں کسی بھی قسم کی کمی یا تیسرے فریق کے ذریعے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صومالیہ کے قریب اغوا شدہ آئل ٹینکر میں پاکستانی عملہ غذائی بحران کا شکار
انصار برنی ٹرسٹ کی ڈائریکٹر قرۃ العین ایڈووکیٹ کے مطابق قزاقوں سے یہ رابطہ پیر کے روز ہوا ہے۔ قزاقوں نے میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں تاوان کا مطالبہ 10 ملین ڈالر بتایا گیا تھا۔ انہوں نے عثمان نامی شخص سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جسے میڈیا پر جہاز کا مالک بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔
صومالی بحری قزاقوں نے پاکستانیوں سمیت 17 یرغمالیوں کی نئی ویڈیو جاری کردی
یرغمالی پاکستانی شہری یوسف حسین کی حکومت پاکستان سے اپیل
یہ لوگ ابلے چاول اور ٹینک کا گندہ پانی پینے کے لیے دے رہے ہیں،بہت مشکل میں جلد سے جلد قزاقوں سے مزاکرات کریں ،ویڈیو میں بھاری اسلحے سے لیس قزاق بھی… pic.twitter.com/1IcDJ2jPCV— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) May 15, 2026
قزاقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت کسی تیسرے فریق کے بجائے ان سے براہِ راست بات چیت کرے۔
اغوا کیا گیا آئل ٹینکر ‘آنر 25’ صومالیہ کا پرچم لگائے عمان سے صومالیہ جا رہا تھا جسے گزشتہ ماہ 21 اپریل کو قزاقوں نے اغوا کیا تھا۔ اس جہاز پر عملے کے 17 ارکان سوار ہیں جن میں سے 10 کا تعلق پاکستان سے ہے۔ کراچی میں یرغمالی پاکستانیوں کے اہلخانہ نے حال ہی میں مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے اپنے پیاروں کی باحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی صومالی بحری قزاقوں کی قید میں، حکومت پاکستان کی سفارتی کوششیں، مغویوں نے اہلخانہ کو کیا بتایا؟
قزاقوں کا کہنا ہے کہ سری لنکا اور بھارت سمیت دیگر ممالک اپنے 7 یرغمالی شہریوں کے لیے ان سے رابطے میں ہیں، تاہم انہوں نے پاکستان کی طرف سے کسی رابطے کی تصدیق نہیں کی۔ دوسری جانب پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قزاقوں اور صومالیہ کی حکومت دونوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
یرغمالی پاکستانیوں نے ویڈیو اور آڈیو پیغامات میں بتایا ہے کہ جہاز پر خوراک اور ادویات کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ انہیں دن میں صرف ایک مرتبہ ابلے ہوئے چاول دیے جا رہے ہیں۔
جہاز پر پینے کا صاف پانی بھی ختم ہوچکا ہے جس کی وجہ سے وہ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور عملے کے ارکان تیزی سے بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔













