سوشل میڈیا اور میوزک فیسٹیول نوجوانوں کو نکوٹین کا عادی بنا رہے ہیں، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ

منگل 19 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز، موسیقی کے میلوں، کھیلوں کی تقریبات اور دلکش تشہیری مہمات کے ذریعے نوجوانوں میں نکوٹین پاؤچ کے استعمال کو تیزی سے فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے صحت عامہ پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کچرے میں پھینکے جانے والی ای سگریٹس سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ

ادارے کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نکوٹین پاؤچ ایسی چھوٹی تھیلیاں ہوتی ہیں جنہیں ہونٹ اور مسوڑھے کے درمیان رکھا جاتا ہے، جہاں سے نکوٹین جسم میں جذب ہوتی ہے۔ ان میں ذائقہ بڑھانے والے اجزا، مٹھاس پیدا کرنے والے مادے اور دیگر کیمیکل بھی شامل ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کمپنیاں نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لیے شوخ رنگوں والی پیکنگ، ببل گم اور کینڈی جیسے ذائقے، سوشل میڈیا پر مقبول شخصیات کے ذریعے تشہیر اور موسیقی و کھیلوں کی تقریبات کی اسپانسرشپ جیسے حربے استعمال کر رہی ہیں۔ بعض مصنوعات کی پیکنگ بچوں کی مٹھائیوں سے مشابہ بنائی جاتی ہے، جس سے کم عمر افراد کے لیے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ 2024 میں نکوٹین پاؤچ کی عالمی فروخت 23 ارب یونٹس سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے، جبکہ ان مصنوعات کے حوالے سے بیشتر ممالک میں مؤثر قوانین موجود نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قریباً 160 ممالک میں نکوٹین پاؤچ کی فروخت یا کم عمر افراد کو اس کی فراہمی سے متعلق کوئی واضح قانون نہیں، جبکہ صرف 16 ممالک نے ان پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں نئی نسل پر سگریٹ نوشی کی پابندی کی تیاری مکمل

ادارے کے مطابق نکوٹین نہایت تیزی سے لت پیدا کرنے والا مادہ ہے، جو خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے دماغی ارتقا، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ کم عمری میں اس کا استعمال مستقبل میں مستقل نشے اور تمباکو نوشی کے امکانات بھی بڑھا دیتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذائقہ دار نکوٹین مصنوعات پر پابندی، سوشل میڈیا تشہیر کی روک تھام، عمر کی سخت جانچ، سادہ پیکنگ، واضح طبی انتباہات اور اضافی ٹیکس سمیت سخت قوانین فوری نافذ کریں تاکہ نوجوان نسل کو نکوٹین کی لت سے بچایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp