ویپس اور دیگر الیکٹرانک آلات جن میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں اور اگر انہیں عام کچرے میں پھینک دیا جائے تو یہ ایک سنگین حفاظتی خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ بیٹریاں دباؤ، نقصان یا کچرے کے ٹرک میں کچلنے کی صورت میں اچانک آگ پکڑ سکتی ہیں جس سے حادثات پیش آنے کا خدشہ رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان میں ویپنگ، ای سگریٹ پر پابندی لگنے والی ہے؟
گو یہ مسئلہ دیگر ممالک میں بھی درپیش ہے لیکن اس حوالے سے برطانیہ کے ایسٹ ڈیون ڈسٹرکٹ کونسل نے بھی خبردار کیا ہے کہ کچرے کی گاڑیوں میں آگ لگنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی بڑی وجہ ویپس (ای سگریٹس) بتائی جا رہی ہیں۔
کونسل کے مطابق سنہ 2026 کے آغاز سے اب تک کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں میں تین آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو تقریباً پچھلے پورے سال کے چار واقعات کے برابر ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ زیادہ تر ویپس میں موجود لیتھیم آئن بیٹریوں کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے۔ یہ بیٹریاں جب کچرے میں دباؤ یا نقصان کا شکار ہوتی ہیں تو اچانک آگ بھڑک سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا
ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بفا کے مطابق گزشتہ سال ایک گاڑی میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں لیتھیم بیٹریوں سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات پر پہلے ہی تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایسے واقعات ایکسٹر اور پلائی ماؤتھ میں بھی سامنے آئے ہیں جس سے پورے علاقے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
کونسل کے ترجمان نے بتایا کہ اس سال 2 واقعات ڈپو میں جبکہ ایک گاڑی کے اندر پیش آیا۔ ان کے مطابق یہ واقعات اگرچہ فوری طور پر قابو پا لیے گئے تاہم بروقت کارروائی نہ ہوتی تو صورتحال سنگین ہو سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ آگ لگنے سے کچرا اٹھانے کے نظام میں خلل پیدا ہوتا ہے اور عملے کو گاڑی واپس ڈپو لے جا کر صفائی اور خالی کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسکول جانے والے بچوں میں نیکوٹین پاؤچز اور ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان، یہ کتنے خطرناک ہیں؟
کونسل نے خبردار کیا ہے کہ واقعات کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ ویپس ہیں۔














