فلم انڈسٹری میں کچھ فنکار اپنی اداکاری سے نہیں بلکہ اپنی شخصیت سے پہچانے جاتے ہیں اور راج کمار ان ہی چند ناموں میں شامل ہیں۔ ان کی موجودگی جہاں اسکرین پر جادو جگاتی تھی وہیں سیٹ پر ان کا انداز اکثر ہدایت کاروں کے لیے ایک چیلنج بن جاتا تھا۔ اسی دلچسپ شخصیت کے بارے میں فلم ساز کے سی بوکادیا نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے انہیں با اثر شخصیت قرار دیا ہے۔
فلم ساز کے سی بوکادیا کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ راج کمار اپنے پالتو کتے کے نام ’جانی‘ کی وجہ سے اکثر لوگوں کو بھی اسی نام سے پکارتے تھے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ خوش قسمتی سے راج کمار نے انہیں کبھی اس نام سے نہیں پکارا اور ہمیشہ عزت سے ’بوکادیا صاحب‘ کہہ کر مخاطب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: راجپال یادو اور امیتابھ بچن کے تعلقات کا چیک باؤنس کیس میں انکشاف
فلم ساز نے بتایا کہ انہوں نے راج کمار کو اپنی فلم ’پولیس اور مجرم‘ کے لیے عین آخری وقت پر مَہورت شوٹ سے صرف ایک روز قبل کاسٹ کیا۔ ان کے مطابق راج کمار کا اصول تھا کہ وہ کسی بھی شخص کے ساتھ کام اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک وہ اسے دیکھ نہ لیں اور ان کے لیے کہانی سے زیادہ ذاتی اطمینان اہم ہوتا تھا۔
کے سی بوکادیا نے کہا کہ راج کمار کے ساتھ کام کرنا امیتابھ بچن کے مقابلے میں زیادہ مشکل تجربہ تھا۔ ان کے مطابق امیتابھ بچن ایک حساب کتاب رکھنے والے (calculative) شخص ہیں، جن کے ساتھ معاملات سمجھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، جبکہ راج کمار کا مزاج وقت اور کیفیت کے مطابق بدلتا رہتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، ہم سب انسان ہیں، امیتابھ بچن نے ایسا کیوں کہا؟
انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ راج کمار کے معاوضے کے معاملے میں بھی دلچسپ گفتگو ہوئی۔ ابتدا میں انہوں نے پچھلی فلم کے مقابلے میں زیادہ معاوضے کی خواہش ظاہر کی اور رفتہ رفتہ بات چیت 21 لاکھ سے بڑھ کر 25 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جس پر وہ راضی ہو گئے۔
فلم ساز کے مطابق انہوں نے راج کمار سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ اگلے ہی دن مَہورت شوٹ میں شریک ہوں۔ اس پر اداکار نے لباس کی تیاری کے بارے میں سوال کیا تو بوکادیا نے مزاحاً کہا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے ایک ہی انداز میں نظر آ رہے ہیں اس لیے نئے کپڑوں کی ضرورت نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ راج کمار مَہورت شوٹ کے لیے اسی پیلے رنگ کے کوٹ میں پہنچے جو انہوں نے فلم ’ہماراز‘ کے معروف گانے ’نیلے گگن کے تلے‘ میں پہنا تھا۔













