پنجاب کے ایم بی بی ایس نصاب میں بڑی تبدیلی، بچوں کی غذائیت کا مضمون لازمی شامل کرنے کا فیصلہ

منگل 19 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) نے اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کے تعاون سے پنجاب بھر کے ایم بی بی ایس نصاب میں بچوں کی غذائیت  اور صحت سے متعلقہ موضوعات کو باقاعدہ شامل کرنے کے لیے 4 حصوں پر مشتمل ایک بڑے پروگرام کے پہلے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔

اس اہم منصوبے کا آغاز لاہور میں شدید غذائی قلت کے کمیونٹی بیسڈ مینجمنٹ  پر 3 روزہ تربیتی ورکشاپ سے ہوا، جس میں صوبہ بھر کے میڈیکل کالجوں اور تدریسی ہسپتالوں کے طبی ماہرین، ماہرینِ اطفال، پبلک ہیلتھ کے ماہرین اور ہیلتھ کیئر ٹرینرز شرکت کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فروغ تعلیم کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا انقلابی فیصلے کیے ہیں؟

یو ایچ ایس اور یونیسف کے اس مشترکہ اقدام کے تحت مئی اور جون 2026 کے دوران چار خصوصی تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی، جن کا مقصد عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کی سفارشات کے مطابق انڈرگریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن میں غذائیت کی تعلیم کو یکساں بنانا ہے۔

ان تربیتی ورکشاپس کے دوران شدید اور معتدل غذائی قلت کے شکار بچوں کی جلد شناخت، بروقت علاج، ریفرل کے طریقہ کار، معلوماتی نگہداشت، اضافی خوراک کی فراہمی اور کمیونٹی کی سطح پر فالو اپ جیسے اہم موضوعات پر مستقبل کے ڈاکٹروں کو عملی تربیت دی جائے گی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً ساڑھے 4 کروڑ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر تین میں سے ایک بچہ غذائی قلت یا نشوونما کی کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کابینہ کا اجلاس: تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت اور عوامی سہولیات کے حوالے سے اہم فیصلے

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی بیماریوں، قد نہ بڑھنے (اسٹنٹڈ گروتھ) اور بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں ناقص غذائیت سب سے نمایاں وجہ ہے، جس کی روک تھام کے لیے میڈیکل کے طلبہ کو تیار کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔

یو ایچ ایس کے وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید راٹھور نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غذائی قلت اور بچوں کی روک تھام کے قابل بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر، غذائیت اور ابتدائی بچپن کی صحت کو اب طبی تربیت میں ثانوی موضوعات کے طور پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے ڈاکٹروں کو نہ صرف طبی علم بلکہ عملی کمیونٹی بیسڈ مہارتوں سے بھی لیس ہونا چاہیے تاکہ وہ ابتدائی مرحلے میں ہی غذائی کمی کی شناخت کر سکیں، جس سے پنجاب بھر میں ماؤں اور بچوں کے لیے ایک مضبوط ہیلتھ کیئر سسٹم قائم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوامِ متحدہ کا غزہ میں 3 لاکھ بچوں کو اسکول واپس لانے کے لیے بڑا تعلیمی منصوبہ

علامہ اقبال میڈیکل کالج اور جناح ہسپتال لاہور کے پروفیسر آف پیڈیاٹرکس پروفیسر نجف مسعود نے شدید غذائی قلت کو ایک ‘خاموش ایمرجنسی’ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی اموات کو روکنے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر بروقت اسکریننگ اور اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

ورکشاپ کے سہولت کار اور علامہ اقبال میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شاہد محمود سیٹھی نے کہا کہ غذائیت کی تعلیم انڈرگریجویٹ میڈیکل ٹریننگ کا لازمی حصہ ہونی چاہیے تاکہ ڈاکٹرز ماں اور بچے کی صحت پر اثرانداز ہونے والے سماجی عوامل کو بہتر سمجھ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم