امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی تعمیر نو کے 70 ارب ڈالر کے منصوبے کے لیے مختلف ممالک نے 17 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک اس میں سے صرف بہت ایک چھوٹا حصہ ہی حاصل ہوا ہے جس کی وجہ سے اس منصوبے کو فنڈز کی شدید کمی درپیش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کی تعمیر نو کے لیے 70 ارب ڈالر فنڈ، امریکا، عرب و یورپی ممالک کی مثبت یقین دہانیاں
بورڈ آف پیس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کے لیے وعدہ شدہ فنڈز اور وصول ہونے والی اصل رقم کے درمیان فرق کو فوری طور پر ختم کرنا ضروری ہے کیونکہ 70 ارب ڈالر کے اس منصوبے میں نقد رقم کی کمی کا خطرہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس اس لیے قائم کیا تاکہ وہ غزہ میں اسرائیل کے فوجی حملوں کے خاتمے اور تباہ شدہ علاقے کی تعمیر نو کے لیے اپنے وسیع منصوبے کی نگرانی کرے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ بورڈ دیگر تنازعات پر بھی کام کرے گا۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے اس بورڈ کو تسلیم کیا ہے تاہم کئی بڑی طاقتیں واشنگٹن کے مرکزی مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں اور کچھ درمیانے یا چھوٹے ممالک کے ساتھ شامل نہیں ہوئیں۔
اپریل میں رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ بورڈ نے صرف وہ چھوٹا حصہ وصول کیا جو ارکان نے غزہ کے لیے 17 ارب ڈالر کا وعدہ کیا تھا جس کے باعث صدر اپنا منصوبہ آگے نہیں بڑھا سکے۔
مزید پڑھیے: غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن، وزیراعظم شہباز شریف کا بورڈ آف پیس سے خطاب
بورڈ نے اس رپورٹ کی تردید کی اور کہا کہ یہ ایک عمل درآمد پر مرکوز ادارہ ہے جو ضرورت کے مطابق فنڈ طلب کرتا ہے اور یہ کہ فنڈنگ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ رقم تعمیر نو اور امریکی حمایت یافتہ عبوری غزہ حکومت کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوگی۔
رقم کی جلد تقسیم کی اپیل
رائٹرز کے مطابق 15 مئی کی ایک رپورٹ میں بورڈ نے کہا کہ وعدہ شدہ رقم اور تقسیم کے درمیان فرق کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔
بورڈ نے مزید کہا کہ فنڈز جو وعدہ کیے گئے ہیں لیکن ابھی تقسیم نہیں ہوئے وہ ایک ایسے فریم ورک اور حقیقی زمین پر نتائج کے درمیان فرق کی نمائندگی کرتے ہیں جو غزہ کے عوام کے لیے کام کرے۔
بورڈ نے ان ممالک سے اپیل کی جو ٹرمپ کے بورڈ میں شامل ہیں کہ وہ جلد رقم فراہم کریں اور کہا کہ وہ رکن ممالک جنہوں نے وعدہ کیا ہے، رقم کی تقسیم کے عمل کو تیز کریں۔
مزید پڑھیں: غزہ کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بورڈ نے کتنی رقم وصول کی یا فرق کتنا بڑا ہے تاہم کہا گیا کہ وعدہ شدہ رقم 17 ارب ڈالر برقرار ہے۔
امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وہ ممالک ہیں جنہوں نے بورڈ کو فنڈ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ دیگر ممالک میں مراکش، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔
غزہ کی تعمیر نو جو اسرائیلی بمباری کے 2 سال اور نصف سے زیادہ عرصے کے بعد ہونی ہے کی لاگت 70 ارب ڈالر سے زیادہ متوقع ہے۔ یہ ٹرمپ کے غزہ کے مستقبل کے منصوبے کا اہم جزو ہے لیکن منصوبہ رک گیا ہے۔
اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل نے غزہ کے ایک بڑے حصے میں فوجی موجود رکھے ہیں اور فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جبکہ حماس ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار سلامتی کونسل میں غزہ کا مقدمہ پیش کریں گے، 18 فروری کو نیویارک کا دورہ شیڈول
بورڈ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے 85 فیصد عمارتیں اور انفراسٹرکچر تباہ ہو چکے ہیں اور تقریباً 70 ملین ٹن ملبہ ہٹانا ہوگا۔
رائٹرز نے 15 مئی کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکا غور کر رہا ہے کہ اسرائیل سے کچھ ٹیکس رقم حاصل کی جائے جو فلسطینی اتھارٹی سے روکی گئی ہے تاکہ بورڈ آف پیس کے ذریعے تعمیر نو فنڈ کی جا سکے۔
کئی ممالک ٹرمپ کے بورڈ کے ذریعے غزہ کی تعمیر نو کو فنڈ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ شفافیت اور نگرانی کے حوالے سے تحفظات ہیں اور وہ روایتی اداروں جیسے اقوام متحدہ کے ذریعے فنڈ فراہم کرنا پسند کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ کی تعمیر نو پر کتنی لاگت آئے گی اور یہ کتنے برسوں میں مکمل ہوگی؟
بورڈ کے چارٹر کے مطابق رکن ممالک کی مدت 3 سال تک محدود ہوگی جب تک کہ وہ بورڈ کی سرگرمیوں کے لیے ہر ایک ارب ڈالر ادا نہ کریں اور مستقل رکنیت حاصل نہ کریں۔ یہ واضح نہیں کہ کسی ملک نے یہ فیس ادا کی ہے یا نہیں۔













