افغانستان کے سابق وزیر اور معروف پشتون دانشور عبدالباری جہانی نے طالبان قیادت کو خبردار کیا ہے کہ طاقت کے زور پر قائم کیا جانے والا نظام ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے طالبان کے اقتدار کے دوران افغانستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تنقید کی ہے۔
عبدالباری جہانی کی تنبیہ اس بڑھتی ہوئی داخلی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ طالبان کی حکمرانی کو افغانستان کے اندر ایک ایسے نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو قانونی جواز یا قومی اتفاقِ رائے کے بجائے جبر، خوف اور اخراج کے ذریعے نسلی غلبہ مسلط کرتا ہے۔
طالبان دور میں 55 سے 58 فیصد غیر پشتون آبادی سیاسی طور پر مسلسل محرومی کا شکار ہے، جبکہ اقتدار قندھار مرکوز مذہبی ڈھانچے میں مرتکز ہے جو زیادہ تر پشتون دھڑوں کے زیرِ اثر ہے۔
طالبان کی 49 رکنی کابینہ میں نہ کوئی خاتون شامل ہے اور نہ ہی ہزارہ برادری کی کوئی نمائندگی موجود ہے، جبکہ تاجک، ازبک اور دیگر اقوام کی نمائندگی بھی محض علامتی سطح تک محدود ہے، جو افغانستان کی آبادیاتی حقیقتوں سے منقطع حکمرانی کو ظاہر کرتا ہے۔
عبدالباری جہانی کا یہ بیان کہ اقتدار طاقت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن طاقت کے ذریعے برقرار نہیں رکھا جا سکتا، طالبان کے جبر اور نمائندگی کے بجائے خوف پر انحصار کے حوالے سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔
شیعہ عالم حسین داد شریفی کی حراست اور ان پر تشدد نے طالبان نظام کے فرقہ وارانہ جبر اور افغانستان کی قریباً 60 سے 70 لاکھ شیعہ آبادی کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی کو مزید بے نقاب کیا ہے۔
طالبان کی جبری مذہبی پالیسیاں، بشمول شیعہ برادریوں پر دباؤ اور محدود نظریاتی تشریح کا نفاذ، ملک بھر میں خطرناک فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دے رہی ہیں اور سماجی خلیج کو وسیع کررہی ہیں۔
عبدالباری جہانی نے طالبان کی پشتون شناخت پر اجارہ داری کی کوششوں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ تمام پشتون اور قندھاری طالبان نہیں ہیں، جو عام پشتون عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔
طالبان طرزِ حکمرانی تیزی سے ایک ایسے بند اور محدود نظریاتی ڈھانچے کی شکل اختیار کررہا ہے جہاں وفاداری کو میرٹ، شمولیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی یکجہتی پر فوقیت دی جا رہی ہے۔
اہم وزارتوں اور سیکیورٹی کے شعبوں کے 85 فیصد سے زیادہ عہدے ایک ہی غالب دھڑے کے کنٹرول میں ہیں، جو نسلی عدم توازن اور مرکزی آمرانہ طرزِ حکومت کے تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
سرعام تشدد، بلاجواز گرفتاریاں، دھمکی آمیز مہمات اور نظریاتی نگرانی کے واقعات تاجک، ہزارہ، ازبک، شیعہ اور حتیٰ کہ پشتون آبادی کے بعض حصوں میں بھی بڑھتی ہوئی ناراضی کا باعث بن رہے ہیں۔
طالبان کا جبر اب صرف محدود سیاسی مخالفت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بتدریج وسیع نسلی اور فرقہ وارانہ تقسیم میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے طویل المدتی طور پر افغانستان کے لیے غیر مستحکم نتائج نکل سکتے ہیں۔
عبدالباری جہانی کی یہ تنبیہ کہ نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے اس بڑھتے ہوئے خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان پالیسیاں افغانستان کو مزید اندرونی تقسیم، بدامنی اور ممکنہ خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
طالبان حکومت پر خود افغانستان کے اندر سے بھی یہ الزامات بڑھ رہے ہیں کہ وہ ایک مرکزی پشتون غالب آمرانہ نظام کے ذریعے نسلی اخراج، فرقہ وارانہ جبر اور قومی ٹوٹ پھوٹ کو فروغ دے رہی ہے، جو افغانستان کے متنوع معاشرے سے ہم آہنگ نہیں۔













