مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات زیادہ تر ایلیٹ کلاس اور گاڑی استعمال کرنے والوں پر پڑتے ہیں۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ یٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر کار استعمال کرنے والے اور ایلیٹ طبقے پر ہوتا ہے جبکہ موٹرسائیکل سوار اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے کیونکہ ان کو تو سپورٹ مل رہی ہے۔
پیٹرول کی قیمت کا فرق مجھے اور آپ، ایلیٹ کلاس کو پڑتا ہے، گاڑی اور کار والے کو فرق پڑتا ہے، موٹرسائیکل والے کو نہیں۔ خرم شہزاد، مشیر خزانہ
نوٹ: وہ فرانس والی ملکہ یاد آ گئی، روٹی نہیں تو پیسٹری کھاو pic.twitter.com/X6mOPeGsmG
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) May 20, 2026
خرم شہزاد کے اس بیان نے سوشل اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے جہاں عوامی حلقوں نے اسے زمینی حقائق سے لاعلمی اور متوسط و غریب طبقے کے مسائل کا مذاق قرار دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی مالکان نہیں بلکہ موٹرسائیکل سوار، دیہاڑی دار مزدور اور عام شہری بھی روزمرہ اخراجات، کرایوں اور مہنگائی کی صورت میں بھگتتے ہیں۔
محمد عمیر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی مشیر زخم دے کر ساتھ نمک بھی چھڑک رہے۔
حکومتی مشیر زخم دیکر ساتھ نمک بھی چھڑک رہے
پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے ہم ایلیٹ کلاس کو فرق پڑتاہے جن کے پاس گاڑیاں ہیں بائیک والوں کو تو سپورٹ مل رہی ہے۔
مشیر خرم شہزاد pic.twitter.com/mHMwqsvMYx— Muhammad Umair (@MohUmair87) May 20, 2026
ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ 24 لاکھ روپے تنخواہ،سرکاری گاڑی،سرکاری پیٹرول،ہوائی سفر سرکاری خرم شہزاد کو کیا فرق پڑتا ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول چاہے 411 روپے سے بڑھ کر ایک ہزار کا ہو جائے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
24 لاکھ روپے تنخواہ،سرکاری گاڑی،سرکاری پیٹرول،ہوائی سفر سرکاری خرم شہزاد کو کیا فرق پڑتا ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول چاہے 411 روپے سے بڑھ کر ایک ہزار کا ہو جائے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ https://t.co/eagoDx9iG4
— Sanaullah Khan (@SanaullahDawn) May 19, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ان کو احساس ہی نہیں کہ عوام کس عذاب سے گزر رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے جہالت سے بھرپور دلائل۔ ان بے شرموں کو احساس ہی نہیں کہ عوام کس عذاب سے گزر رہی ہے۔ pic.twitter.com/wW5IdXzAhk
— Sunno Pakistan (@SunnoPakistan) May 20, 2026













