امریکا کی جانب سے سابق کیوبن صدر راؤل کاسترو پر بدھ کے روز فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیوبا کی امریکا کو سخت وارننگ، فوجی کارروائی ہوئی تو ’خونریزی‘ ہوگی
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اعلان کی تقریب میامی میں امریکی محکمہ انصاف اور ایف بی آئی کے اشتراک سے منعقد ہوگی۔
یہ اقدام سنہ 1996 کے اس واقعے سے متعلق ہے جس میں’برادرز ٹو دی ریسکیو‘ نامی تنظیم کے 2 شہری طیارے مار گرائے گئے تھے۔ یہ تنظیم سمندر کے راستے کیوبا سے فرار ہونے والے افراد کی مدد اور ریسکیو مشنز انجام دیتی تھی۔ اس حملے میں 4 کیوبن نژاد امریکی ہلاک ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک گرینڈ جیوری نے شواہد سننے کے بعد فرد جرم منظور کرلی ہے تاہم ابھی تک الزامات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
مزید پڑھیے: امریکا کو کیوبا سے ڈرون حملوں کا خدشہ، حساس انٹیلیجنس رپورٹ منظرِ عام پر
تقریب میں قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش، ایف بی آئی کے اعلیٰ حکام اور میامی کے وفاقی پراسیکیوٹر شریک ہوں گے۔ یہ تقریب سنہ 1996 کے واقعے کے متاثرین کی یاد میں بھی منعقد کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: سی آئی اے چیف کا غیر معمولی دورۂ کیوبا، ٹرمپ کا اہم پیغام ہوانا حکومت تک پہنچا دیا گیا
امریکی حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے کیوبا پر دباؤ بڑھا رہی ہے جس میں سخت معاشی پابندیاں اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ اگرچہ راؤل کاسترو سال 2018 میں صدارت اور سال 2021 میں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت چھوڑ چکے ہیں لیکن مبصرین کے مطابق وہ اب بھی کیوبا کی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔














