وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری سے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے وفد نے ملاقات کی۔
وفد کی قیادت ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر کونستانتین لیمیٹووسکی کر رہے تھے۔
ملاقات میں توانائی شعبے میں سرمایہ کاری، ٹرانسمیشن نظام اور قابلِ تجدید توانائی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں نارتھ-ساؤتھ ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت پاور سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن اور جدید اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قریباً ایک کروڑ جدید میٹرز کی مرحلہ وار تنصیب کے منصوبے پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں تقریباً پندرہ لاکھ جدید میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہاکہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور ٹرانسمیشن لائنز حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
اس موقع پر ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
چیف انویسٹمنٹ آفیسر کونستانتین لیمیٹووسکی نے کہا کہ بینک کے پاس تقریباً 100 سے 150 ملین ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری پائپ لائن میں موجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ بینک قابلِ تجدید توانائی، پائیدار انفراسٹرکچر اور ٹرانسمیشن منصوبوں کی مالی معاونت کا جائزہ لے گا، جبکہ بینک کی تکنیکی ٹیمیں پاکستانی اداروں کے ساتھ مختلف قابلِ عمل منصوبوں پر تعاون کو آگے بڑھائیں گی۔
ملاقات میں پاکستان اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے درمیان توانائی شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔














