پاکستان میں پسند کی شادی یا کورٹ میرج محض دو افراد کا جذباتی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا خونی کھیل بن چکا ہے جس کا انجام اکثر لاشوں، سسکیوں اور تاحیات پچھتاووں پر ہوتا ہے۔
جب کوئی لڑکا یا لڑکی محبت کی خاطر گھر کی دہلیز پار کرتے ہیں، تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا یہ ایک قدم اپنے پیچھے پورے خاندان کی عزت، سکون اور بساط کو آگ لگا دیتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ زندگی کی نئی شروعات کر رہے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنے لیے اور اپنے اپنوں کے لیے مصیبتوں کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔
گھر سے بھاگنے والے تقریباً ہر جوڑے کو یہ وہم ہوتا ہے کہ ہمارے والدین چند دن ناراض رہیں گے، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔
یہاں اس تلخ حقیقت کو ان لڑکیوں کے احوال سے دیکھیے جو گھر سے شاید یہی سوچ کر نکل گئی تھیں کہ ہمارے والدین ہمیں بالآخر قبول کر لیں گے، آخر ہمارے اپنے ہی تو ہیں، مگر نہیں، جہاں عزت اور انا کی بات آ جائے، وہاں ماں باپ بھی ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ان کا معصوم یا نادان دماغ انہیں یقین دلاتا ہے کہ ہمارا معاملہ مختلف ہے، ہمارے گھر والے ہمیں معاف کر دیں گے۔ جب تک انہیں حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے، تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے کی اندھیری گلیوں میں ایسی روح فرسا داستانیں بکھری پڑی ہیں، جو پتھر دل انسان کو بھی ہلا کر رکھ دیں۔ آمنہ (فرضی نام) نے بھی ایک رات اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر محبت کی خاطر گھر چھوڑا۔ اسے لگا کہ اس نے پیار پا لیا ہے اور شاہجہان و ممتاز محل کا ملن ہو گیا، مگر اُسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کا معشوق شاہجہان جیسا طاقتور نہیں۔ اب خاندان اور بھائیوں کی انا نے اسے تاحیات زندہ درگور کر دیا۔ باپ کا انتقال ہوا تو بیٹی آخری دیدار کو ترستی کچی سڑک پر روتی رہی۔ ماں پوری زندگی چولہے کے پاس بیٹھ کر بیٹی کی تڑپ میں سسکتی رہی اور آخر کار اسی دکھ کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئی۔ آج آمنہ کے اپنے دو بچے ہیں، وہ ماں بن چکی ہے، مگر اس کا اپنا آنچل اپنوں کی معافی سے ہمیشہ کے لیے محروم ہے۔
ایک اور کہانی سائرہ (فرضی نام) کی ہے، جس نے دوسرے مذہب کے لڑکے کی خاطر اپنے بوڑھے والدین کو تنہا چھوڑ دیا۔ اس کے ضعیف ماں باپ آج بھی زندہ ہیں، ان کی آنکھیں بیٹی کی صورت دیکھنے کو ترستی ہیں، مگر وہ اپنے ہی جوان بیٹے کے خوف سے گھر کی کھڑکی سے باہر جھانکنے سے بھی کتراتے ہیں کہ کہیں غیرت کا پجاری بیٹا بہن کا خون نہ بہا دے۔
المیہ صرف سماجی بائیکاٹ کا نہیں، یہاں تو خونی رشتے ہی گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ فرح (فرضی نام) کو بھائیوں نے معافی کا دلاسہ دیا، وہ روتی ہوئی گھر لوٹی تو اسی رات اسے زہر دے کر خاموشی سے مٹی تلے دفن کر دیا گیا۔
عرشی (فرضی نام) کو بھری پنچایت میں سب کے سامنے گولیوں سے بھون دیا گیا اور قاتل بھائی فخر سے سینہ تان کر جیل چلا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ جب ماہی (فرضی نام) گھر سے بھاگی، تو اس کی بوڑھی ماں اور چاچی کو پورے محلے کے سامنے گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ تم نے اسے غلط تربیت دی۔ وہ ماں اس ذلت اور صدمے کو برداشت نہ کر سکی، بستر سے لگی اور تڑپ تڑپ کر آخر کار جان سے ہی چلی گئی۔
ایسی ہی ہزاروں کہانیاں آپ کو سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات میں دیکھنے کو ملیں گی، جنہیں غیرت کے نام پر ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔
ایچ آر سی پی (Human Rights Commission of Pakistan) اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں ہر سال لگ بھگ 1,000 سے زائد خواتین کو غیرت کے نام پر قتل (Honor Killing) کر دیا جاتا ہے۔ میڈیا میں رپورٹ ہونے والے یہ کیسز تو صرف برفانی تودے کی ایک نوک ہیں، جبکہ سینکڑوں لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں زہر دے کر، کرنٹ لگا کر یا خودکشی کا رنگ دے کر خاموشی سے رات کے اندھیرے میں دفنا دیا جاتا ہے اور ان کا کوئی ریکارڈ تک نہیں ملتا۔
یہ ہولناک انجام اور سسکتی داستانیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور ایک تیکھا سوال دل کو جھنجھوڑتا ہے، کہ جب انجام اتنا بھیانک ہے، جب اپنی اور پورے خاندان کی زندگیاں برباد ہونی ہیں، تو پھر یہ نوجوان یہ قدم اٹھاتے ہی کیوں ہیں؟ کیا ایک لڑکے یا لڑکی کا گھر سے بھاگ کر شادی کرنا اتنا ضروری ہے کہ اس کے لیے اس ماں کو سسکا کر مار دیا جائے جس نے نو مہینے اسے پیٹ میں پالا ؟
مگر یہاں سکے کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ تاریک اور بھیانک ہے۔ اگر محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر یا زبردستی کی شادی کے خوف سے کسی لڑکی نے ایک نادانستہ فیصلہ کر ہی لیا، تو بھائیوں، والدین اور رشتہ داروں کا غیرت کے نام پر جلاد بن جانا کہاں کا انصاف ہے؟ اپنی ہی بیٹی، اپنی ہی بہن کو گولی مارنے، زہر دینے یا تاحیات عاق کرنے سے خاندان کی کون سی لٹی ہوئی عزت واپس آ جاتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اس وحشیانہ ردعمل سے عزت بحال نہیں ہوتی، بلکہ ہنستا کھیلتا گھرانہ ہمیشہ کے لیے راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ بہن قبرستان چلی جاتی ہے، اکلوتا جوان بھائی عمر بھر کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتا ہے، اور بوڑھے ماں باپ جیتے جی مر جاتے ہیں۔ لوگ کیا کہیں گے؟ کے سراب اور تماش بین معاشرے کے طعنوں سے بچنے کے لیے اپنے ہی جگر گوشے کا خون بہا دینا انسانیت کے نام پر بدترین کلنک ہے۔
قانون اور شریعت دونوں کا مائنڈ سیٹ اس معاملے میں بالکل واضح ہے۔ اسلام اور قانونِ پاکستان میں سے کوئی بھی کسی باپ یا بھائی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ خود جج اور جلاد بن کر قانون ہاتھ میں لے۔
اخبارات میں چھپنے والے عاق نامے قانون کی نظر میں ردی کے ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔کوئی بھی اشتہار کسی بیٹی کو اس کے خونی رشتے سے الگ نہیں کر سکتا اور نہ ہی والدین کے انتقال کے بعد اسے اس کے شرعی و قانونی حقِ وراثت سے محروم کر سکتا ہے۔ ماں باپ کے جنازے پر پہرے بٹھانا اور بیٹی کو آخری دیدار سے روکنا بھی سراسر غیر اسلامی، غیر قانونی اور ظلم کی انتہا ہے۔
کچے ذہنوں کے مالک نوجوان اگر ٹی وی ڈراموں کی رومانوی بغاوت سے متاثر ہو کر زمینی حقائق کو بھول رہے ہیں، تو پکے ذہنوں کے مالک بزرگوں اور بھائیوں کو بھی اپنی سفاکی پر غور کرنا ہوگا۔ رشتوں کو کاٹ پھینکنے یا جان لینے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اگر گھروں میں خوف کی جگہ مکالمے، غصے کی جگہ قبولیت اور انا کی جگہ ظرف کو دے دی جائے، تو تقدیر کے فیصلوں کو تسلیم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جو محبت اپنوں کے جنازوں اور ماؤں کی سسکیوں کے سائے میں پروان چڑھے، وہ کبھی سکون نہیں دے سکتی، اور خاندان والوں کو یہ جاننا ہوگا کہ عزت خون بہانے سے نہیں، بلکہ رشتوں کو تحفظ دینے اور معاف کرنے سے بچتی ہے۔ اگر یہ بات سمجھ میں آ جائے، تو شاید پھر کسی آمنہ کی ماں تڑپ کر نہ مرے اور نہ ہی کسی سائرہ کے بوڑھے والدین بیٹی کے دیدار کو ترسیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














