امریکی چپ ساز کمپنی این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے اعتراف کیا ہے کہ چین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) چپ مارکیٹ میں کمپنی کا حصہ، جو کبھی 90 فیصد سے زائد تھا، اب مکمل طور پر صفر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق امریکی برآمدی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کو چینی کمپنی ہواوے نے بھر دیا ہے، جو اس شعبے میں غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔
این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے اعتراف کیا ہے کہ کمپنی نے چین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) چپ مارکیٹ میں اپنی برتری مکمل طور پر کھو دی ہے۔ ان کے مطابق ایک وقت تھا جب این ویڈیا کے پاس چین کی اے آئی چپ مارکیٹ کا 90 فیصد سے زائد حصہ موجود تھا، تاہم اب یہ حصہ صفر ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین نے مغرب جتنی طاقتور چِپ مشین بنانے کا راستہ کھول لیا
اسکالرز اور پالیسی ماہرین کے لیے تیار کردہ ’مِیموز ٹو دی پریزیڈنٹ‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ہوانگ نے واضح الفاظ میں کہا ’این ویڈیا کے پاس دنیا کی مارکیٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تھا، لیکن آج چین میں ہمارا حصہ صفر ہو چکا ہے۔‘
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق علی بابا، ٹینسینٹ، بائٹ ڈانس اور جے ڈی ڈاٹ کام جیسی بڑی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے این ویڈیا کے جدید H200 چپس خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔
چین کی مارکیٹ سے اخراج کیسے ہوا؟
چین کبھی این ویڈیا کی ڈیٹا سینٹر آمدن کا کم از کم پانچواں حصہ فراہم کرتا تھا، جس کی وجہ سے یہ کمپنی کے اہم ترین مارکیٹس میں شمار ہوتا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت نے جدید اے آئی چپس کی برآمد پر سخت پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں۔
اپریل میں ٹرمپ انتظامیہ نے این ویڈیا کو آگاہ کیا کہ چین اور بعض دیگر ممالک کو چپس کی فروخت کے لیے لائسنس درکار ہوگا۔ اس پر جینسن ہوانگ نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا کہ انہیں اعلیٰ درجے کی چپ فروخت کی منظوری کے حوالے سے ذرا سی بھی توقع نہیں رکھنی چاہیے‘، جس سے واضح اشارہ ملا کہ چین کی مارکیٹ تک فوری واپسی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کا نئی اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان
سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہوانگ نے ہواوے کی بڑھتی ہوئی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’ہواوے بہت مضبوط کمپنی ہے۔ ان کا ایک ریکارڈ سال رہا ہے، اور آئندہ اس سے بھی غیر معمولی کارکردگی کی توقع ہے۔ ان کا مقامی چپ ایکو سسٹم بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے کیونکہ ہم نے وہ مارکیٹ خالی کر دی ہے۔‘
این ویڈیا نے اپنی حالیہ سہ ماہی میں 81.62 ارب ڈالر کی آمدن رپورٹ کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 85 فیصد اضافہ ہے۔ کمپنی نے اسی دوران 80 ارب ڈالر کے شیئر بائی بیک پروگرام اور منافع میں اضافے کا بھی اعلان کیا۔
جینسن ہوانگ نے این ویڈیا کے طویل المدتی کاروباری وژن کو ’پانچ پرتوں والا کیک‘ قرار دیا، جس میں توانائی، چپس، انفراسٹرکچر، ماڈلز اور ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی صنعت ایک ایسے ڈھانچے کی شکل اختیار کر رہی ہے جس کی ہر پرت میں این ویڈیا بنیادی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے اینویڈیا کے جدید ترین چپس امریکا سے چین اسمگل کیسے ہوئے؟ پہلی بار تفصیلات سامنے آگئیں
انہوں نے کہا کہ کمپنی کی اولین ترجیح عالمی سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ ان کے الفاظ میں’جب ہم سینکڑوں ارب ڈالر کی رفتار سے ترقی کر رہے ہیں تو ہمیں اپنی سپلائی چین کو بھی اسی رفتار کے مطابق مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ ہماری ترقی کو سہارا دے سکے۔‘
چین کے حوالے سے ہوانگ نے سخت مؤقف کے بجائے محتاط اور لچکدار رویہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق اگر پالیسی حالات میں تبدیلی آتی ہے تو این ویڈیا واپسی کے لیے ’خوشی سے تیار‘ ہوگی، کیونکہ کمپنی کی اس مارکیٹ میں تین دہائیوں پر محیط موجودگی اور مضبوط شراکت داریاں موجود ہیں۔














