وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا 24 گھنٹوں کے اندر دوسری مرتبہ تہران پہنچنا محض ایک روایتی سفارتی دورہ نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے پاکستان کی تیزی سے متحرک ہوتی ہوئی پس پردہ سفارت کاری کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امن مذاکرات میں پیشرفت: ایران نے امریکا کے لیے نیا پروپوزل پاکستان کے حوالے کردیا
وفاقی وزیر اس وقت ایران میں اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی ہے۔
ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور پاکستان ایک بار پھر ایک ممکنہ ثالثی کردار کے طور پر عالمی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔
پاکستانی مبصرین اور سابق سفارتکار جوہر سلیم اور علی سرور نقوی مختلف فورمز پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اس وقت صورتحال اگرچہ نازک ہے، تاہم اسے فوری طور پر ہنگامی بحران قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور امریکا کی جانب سے کسی ممکنہ کارروائی کی صورت بنتی ہے تو اس کا مقصد زیادہ تر اپنی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہوگا نہ کہ فوری طور پر کشیدگی کو بڑھانا۔
صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد سفارتی کوششوں میں تیزی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ چین کے بعد خطے میں سفارتی کوششوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
مزید پڑھیے: امن مذاکرات: اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، ایرانی سفیر
یہ پیشرفت اس وسیع تر سفارتی سرگرمی کا حصہ قرار دی جا رہی ہے جو مبصرین کے مطابق 14 اور 15 مئی کے بعد زیادہ نمایاں ہوئی جب پاکستان نے خطے میں مختلف بحرانوں کے دوران کشیدگی میں کمی اور رابطہ کاری کے عمل کو مزید فعال کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 اور 15 مئی کو چین کا دورہ کیا جس دوران چینی صدر شی جن پنگ نے غیر معمولی طور پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے مذاکراتی راستہ اپنانے پر زور دیا۔
اس تناظر میں پاکستان کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ چین، سعودی عرب، ایران اور امریکا سمیت متعدد ممالک نے خطے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کردار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
14 مئی کے بعد کی سفارتی ٹائم لائن
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے بیانات اور سرکاری سوشل میڈیا اپڈیٹس کے مطابق 14 مئی کے بعد اسلام آباد کی سفارت کاری 3 بنیادی محوروں پر مرکوز رہی ہے جن میں خطے میں کشیدگی میں کمی، ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان رابطہ کاری اور خلیجی ممالک چین سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ اعتماد سازی کو فروغ دینا شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا اسلام آباد ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے؟
اسی عرصے کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان نے متعدد مواقع پر اس مؤقف کو دہرایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک فعال اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔
وزارت خارجہ کے سرکاری بیانات میں بھی یہی پالیسی بیانیہ نمایاں رہا کہ پاکستان مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے مثبت، تعمیری اور مسلسل روابط کو آگے بڑھا رہا ہے۔
ایران امریکا بیک چینل اور غیر روایتی سفارتکاری
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست رابطوں کے بجائے زیادہ تر بالواسطہ اور غیر رسمی (بیک چینل) ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ اس کی ایران کے ساتھ زمینی سرحد بھی ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی روابط بھی قائم ہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور رابطہ کاری میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے جبکہ اسے چین اور خلیجی ممالک کا اعتماد بھی حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کو اسلام آباد میں اہم امن مذاکرات کی میزبانی پر فخر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایسے حالات میں وہ ممالک جو قابل اعتماد ثالث یا درمیانی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کا کردار خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحرانوں کے حل میں نہایت اہم ہو جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے اعتماد کا اظہار
ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کو ناکام ہوتے دیکھنے کی خواہش رکھنے والی بعض قوتیں پاکستان اور ایران کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں تاہم ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات اس تاثر کو کمزور کرتے ہیں۔
ایسا ہی ایک بیان ایران کے پاکستان میں تعینات سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ایران کے 20 ملاحوں کو سنگاپور میں پیش آنے والے ایک مسئلے کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا گیا اور بعد ازاں وہ اپنے وطن واپس پہنچ گئے۔
سفیر نے اس موقعے پر پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت متعلقہ اداروں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان کے مطابق ان ملاحوں کی واپسی پاکستان کی سفارتی معاونت کے باعث ممکن ہوئی۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف
یہ بیان محض ایک سفارتی روایت نہیں بلکہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ تہران، پاکستان کو ایک قابل اعتماد عملی رابطہ کار اور سہولت کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے تعریف
اسی دوران ایک اہم پیشرفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی میں کمی اور ثالثی نوعیت کی سفارتی کوششوں پر پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
مذکورہ پیشرفت اس لحاظ سے اہم قرار دی جا رہی ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک سفارتی توازن کے درمیان موجود ہے جہاں ایک جانب ایران تو دوسری جانب سعودی عرب جبکہ ساتھ ہی امریکا اور چین جیسے بڑے عالمی فریق بھی شامل ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان کی کثیر الجہتی اور متوازن سفارتکاری اس کی موجودہ خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنتی جا رہی ہے جس کے ذریعے پاکستان مختلف علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان رابطہ کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
ایران امریکا کشیدگی، کیا واقعی بریک تھرو قریب ہے؟
اگرچہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں واضح تیزی دیکھی جا رہی ہے تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اب بھی اعتماد کے شدید فقدان، پابندیوں کے مسئلے، علاقائی سیکیورٹی خدشات اور سیاسی دباؤ جیسے بنیادی اور پیچیدہ مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ سفارتی پوزیشن کو مختلف حلقوں میں 3 زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ پہلا زاویہ ’سہولت کار ریاست‘ کا ہے جس کے تحت پاکستان محض پیغامات اور رابطوں کے تبادلے میں کردار ادا کرتا ہے۔ دوسرا ’ثالثی کردار‘ ہے جس میں پاکستان فریقین کو قریب لانے کی کوششوں میں زیادہ فعال نظر آتا ہے۔ جبکہ تیسرا اور زیادہ وسیع تصور ’اسٹریٹجک پل‘ کا ہے جس میں پاکستان بیک وقت ایران، امریکا، چین، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک رابطہ کار مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران کشیدگی، اسلام آباد میں امن مذاکرات پر خواتین کی رائے
موجودہ رجحانات کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تیزی سے اسی تیسرے اور زیادہ جامع کردار کی سمت بڑھ رہا ہے۔











