ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیشرفت میں پاکستان نے ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کیا جسے عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی سہولت کاری کی بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر اپنا مثبت تشخص بھی اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد امن مذاکرات:ٹرمپ کا بیشتر نکات پر پیشرفت کا اعلان، ایران اگلی نشستیں و رابطے جاری رکھنے پر تیار
تاہم مذاکرات کا بغیر کسی نتائج کے ختم ہونے کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے کا مستقبل کیا رخ اختیار کرے گا۔ اگرچہ فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان غیر اعلانیہ سیز فائر برقرار دکھائی دیتا ہے مگر اب دونوں ممالک کا کیا لائحہ عمل ہوگا اور کیا اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے؟
مذاکرات آگے بڑھنے کی مکمل گنجائش موجود ہے، سفیر مسعود خالد
سابق سفیر مسعود خالد نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور حالیہ سفارتی پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی رہنما جے ڈی وینس کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو ایک باضابطہ پیشکش کی جا چکی ہے جس میں مذاکرات کو آگے بڑھانے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔
ان کے مطابق یہ پیشکش اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر دروازے بند کرنے کے بجائے سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے تاکہ معاملات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد امن مذاکرات:ٹرمپ کا بیشتر نکات پر پیشرفت کا اعلان، ایران اگلی نشستیں و رابطے جاری رکھنے پر تیار
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات بھی اسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتکاری کے لیے اب بھی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مثبت پیشرفت ہے کہ دونوں جانب سے مذاکرات کے امکان کو تسلیم کیا جا رہا ہے جو مستقبل میں کسی ٹھوس پیش رفت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
’سیزفائر کے دوران فریقین اگلے مرحلے کی جانب بڑھیں گے‘
مسعود خالد نے امید ظاہر کی کہ موجودہ سیز فائر کے دوران مزید سفارتی رابطے بحال کیے جا سکتے ہیں اور دونوں ممالک کسی نہ کسی صورت میں مذاکرات کے اگلے مرحلے کی جانب پیش رفت کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اس وقفے کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
مذاکرات کے آئندہ مقام کے حوالے سے انہوں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال کسی حتمی مقام کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ مختلف سفارتی اور سیاسی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے جس سنجیدگی، تسلسل اور فعال انداز میں ان مذاکرات کی سہولت کاری کی ہے اس کے پیش نظر یہ بات فطری ہے کہ پاکستان آئندہ بھی اس سفارتی عمل میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔
’پاکستان کا کردار محض میزبان کا نہیں امن کے خواہاں ایک ذمے دار ملک کا ہے‘
مسعود خالد نے مزید کہا کہ پاکستان کا کردار محض ایک میزبان کا نہیں بلکہ ایک ذمے دار اور امن کے خواہاں ملک کا ہے جو خطے میں استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے لہٰذا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر مذاکرات کا کوئی نیا دور شروع ہوتا ہے تو پاکستان اس میں کسی نہ کسی صورت میں ضرور اپنا کردار ادا کرے گا۔
پیچیدہ تنازعات میں وقتی تعطل فطری عمل ہے، دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود
دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ بڑے اور پیچیدہ تنازعات میں ایسا عارضی تعطل فطری عمل کا حصہ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو اسلام آباد میں اہم امن مذاکرات کی میزبانی پر فخر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال
ان کے مطابق یہ ایک سادہ تنازع نہیں بلکہ اس میں جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز، پراکسیز اور خطے کی اسٹریٹیجک سیاست جیسے اہم اور پیچیدہ معاملات شامل ہیں جن پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مثبت پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے جس سے ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے میں مدد ملی ہے اور سفارتی عمل کا دروازہ کھلا رہ گیا ہے۔
زاہد محمود کے مطابق فی الحال سیز فائر اور مذاکرات کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق مکمل تصادم سے گریز چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کو اپنے اپنے مؤقف میں لچک دکھانی ہوگی تاہم موجودہ دور میں مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری اور باہمی تعاون میں ہی ممکن ہے۔
’قوی امکان ہے اسلام آباد مذاکرات کا دوبارہ مرکز بنے گا‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایک مؤثر اور متوازن کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لایا اور کشیدگی میں کمی کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ان کے بقول قوی امکان ہے کہ پاکستان آئندہ بھی اس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرے گا اور اسلام آباد دوبارہ مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف
زاہد محمود کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ وقفے کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا تو مستقبل میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے جو خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہوگا۔
اسلام آباد امن مذاکرات آئندہ بات چیت کی شروعات ہیں، سابق وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی
سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان مذاکرات کا اختتام کسی باضابطہ معاہدے پر نہیں ہوا تاہم یہ آئندہ مذاکرات کی شروعات ہیں۔
ان کے مطابق کسی بھی بڑے اور پیچیدہ بین الاقوامی تنازع میں فوری نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے اہم پیشرفت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ قائم ہوا اور براہِ راست رابطے کا مؤثر چینل کھل گیا ہے جو کسی بھی سنجیدہ سفارتی عمل کی بنیادی شرط ہوتا ہے۔
جلیل عباس جیلانی نے بتایا کہ اسلام آباد میں تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں دونوں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کو تفصیل سے پیش کیا اور حساس معاملات پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں امن مذاکرات کی تیاریاں، وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کا ٹیلیفونک رابطہ
انہوں نے کہا کہ اس طویل نشست کے بعد اب دونوں جانب کو ایک دوسرے کے مؤقف، خدشات اور ترجیحات کا واضح ادراک ہو چکا ہے جو آئندہ پیش رفت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
’آئندہ مذاکرات صفر سے شروع نہیں ہوں گے، نتیجہ بھی نکلے گا‘
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مذاکراتی دور صفر سے شروع نہیں ہوگا بلکہ وہیں سے آگے بڑھے گا جہاں حالیہ بات چیت ختم ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ جب بھی اگلا دور شروع ہوگا وہ زیادہ منظم، حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔
جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ پاکستان نے ان مذاکرات میں ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کیا ہے جس کے باعث نہ صرف دونوں ممالک کو ایک پلیٹ فارم میسر آیا بلکہ کشیدگی میں کمی کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیے: پائیدار امن کے لیے امریکا ایران ڈائیلاگ میں سہولت کاری جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار
ان کے بقول اس مثبت کردار کو دیکھتے ہوئے یہ بعید نہیں کہ اسلام آباد آئندہ بھی اس سفارتی عمل کا مرکز بنے اور پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے۔














