بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے ایک بار پھر مسلم مخالف متنازع بیان دے کر سیاسی و سماجی حلقوں میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ ممبئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں کو ’ سبز سانپ‘ قرار دیا اور مذہبی ہم آہنگی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے ہندوؤں کو سخت مؤقف اپنانے کی تلقین کی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نتیش رانے نے اپنے تازہ خطاب میں مسلمانوں کو ’سبز سانپ‘ قرار دیتے ہوئے ہندوؤں پر زور دیا کہ وہ سخت رویہ اختیار کریں اور مذہبی بقائے باہمی کے نظریے کو مسترد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: مسلمانوں سے ایک اور تاریخی مسجد چھین لی گئی، دیوی براجمان
ممبئی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کھلے عام فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تمام مذاہب کے مساوی احترام کے تصور کو رد کیا، جو بھارتی آئین کے سیکولر ڈھانچے کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہندوؤں کے مفادات سب سے پہلے ہیں۔ نہ کوئی بھائی چارہ ہے اور نہ ہی تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’جو لوگ اس سوچ پر یقین رکھتے ہیں وہ پاکستان چلے جائیں، یہاں رہنے کی ضرورت نہیں۔‘
نتیش رانے نے یہ بیان ہندوتوا تنظیموں کے زیر اہتمام منعقدہ ’سنبھاجی جینتی‘ تقریب کے دوران دیا۔ ان کے خطاب کے بعد سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی نفرت انگیز زبان اقلیتوں کو مزید الگ تھلگ کرنے اور بھارت کے سیکولر و کثیرالثقافتی تشخص کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہندوتوا رہنما اکثر مسلمانوں کو ’باہر سے آنے والے‘ یا ’اندرونی خطرہ‘ قرار دیتے رہے ہیں، حالانکہ بھارت میں مسلم آبادی 20 کروڑ سے زائد ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: زکوۃ جمع کرنے والے 3 مسلمانوں پر ہندوؤں کا تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر ہنگامہ
اپنے خطاب میں نتیش رانے نے ایک اور متنازع جملہ کہتے ہوئے کہا،’یہ مہادیو کی سرزمین ہے۔ یہاں صرف ‘آئی لو مہادیو’ چلے گا، ‘آئی لو محمد’ نہیں۔‘ مبصرین کے مطابق ان کا اشارہ ماضی میں مذہبی نعروں اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے جڑے تنازعات کی جانب تھا۔
ان کی تقریر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہیں، جس کے بعد مسلم تنظیموں اور شہری حقوق کے کارکنوں نے بی جے پی رہنما پر فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے اور مسلم اقلیت کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔












