بھارت: مسلمانوں سے ایک اور تاریخی مسجد چھین لی گئی، دیوی براجمان

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائیکورٹ نے تاریخی کمال مولیٰ مسجد سے متعلق بڑا فیصلہ سناتے ہوئے قرون وسطیٰ کے بھوج شالا کمپلیکس کو ہندو دیوی واگ دیوی کا مندر قرار دے دیا جس کے بعد بھارتی مسلمانوں میں تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل، زخم آج بھی تازہ

عدالت نے اپنے فیصلے میں ہندوؤں کو اس مقام پر عبادت کی اجازت دیتے ہوئے مسلم فریق کے دعوے مسترد کر دیے۔ یہ مقام کئی برسوں سے قانونی تنازع کا شکار تھا جہاں آثار قدیمہ کے ادارے کی نگرانی میں مسلمان جمعہ کی نماز ادا کرتے رہے تھے جبکہ مخصوص دنوں میں ہندوؤں کو بھی رسائی حاصل تھی۔

فیصلے کے بعد ہندوتوا تحریک سے وابستہ زعفرانی جھنڈے اٹھائے ہندو کارکن بڑی تعداد میں مقام پر جمع ہوگئے جبکہ سخت سیکیورٹی میں عارضی مورتیوں کی تنصیب بھی کی گئی۔

مقامی مسلمانوں کے لیے یہ فیصلہ ایک تاریخی عبادت گاہ کے کھو جانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریباً 50 برس تک مسجد میں مؤذن کی ذمہ داریاں انجام دینے والے 78 سالہ محمد رفیق نے فیصلے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ جمعے تک یہ مسجد ہماری تھی، آج نہیں رہی۔

مزید پڑھیے: بابری مسجد کے انہدام کے بعد اب سنبھل مسجد ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر

بھوج شالا کمپلیکس کئی دہائیوں سے مذہبی تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہندو قوم پرست تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مسجد کی تعمیر سے قبل یہاں مندر موجود تھا۔

سنہ 2003 میں آثار قدیمہ کے بھارتی ادارے کے تحت طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہندوؤں کو منگل کے روز جبکہ مسلمانوں کو جمعے کے دن عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں حالیہ آثار قدیمہ سروے کو اہم بنیاد بنایا۔ تاہم مسلم رہنماؤں اور وکلا نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وکیل اشہر وارثی کا کہنا ہے کہ تاریخی ریکارڈ واضح طور پر اس مقام کو مسجد قرار دیتا ہے اور حکام نے قانونی تحفظات کو نظر انداز کیا ہے۔

ناقدین نے سنہ 1991 کے ’قانون عبادت گاہ‘ کا بھی حوالہ دیا ہے جس کے تحت سنہ 1947 میں موجود عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں مغلیہ دور کی مساجد سے متعلق تنازعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق سنہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسے مقدمات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یہ تنازع بابری مسجد کی شہادت اور وارانسی کی گیان واپی مسجد و متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد سے متعلق جاری قانونی تنازعات کی یاد بھی تازہ کرتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مذکورہ مسجد کے تنازعے میں مسلمان، ہدو اور جین مت سے تعلق رکھنے والے افراد تینوں ہی شامل ہیں۔ ہندو فریق اسے راجہ بھوج کے دور کا سرسوتی مندر اور گروکل قرار دیتا ہے جبکہ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ صدیوں پرانی کمال مولیٰ مسجد ہے۔ ادھر جین سماج نے بھی عدالت میں عرضی داخل کر کے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مقام دراصل جین عبادت گاہ اور تعلیمی مرکز تھا۔

مزید پڑھیں: آزاد سکھ ریاست بناکر رام مندر کی جگہ بابری مسجد تعمیر کریں گے، گرپتونت سنگھ پنوں

ناقدین کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلہ بھارت میں مذہبی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور اسلامی دور کی تاریخی عمارتوں کے خلاف نئے مقدمات کا راستہ کھول سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp