کراچی کے ناردرن بائی پاس پر واقع ملک کے سب سے بڑے مویشی بازار میں اس سال صورتحال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف دکھائی دے رہی ہے جہاں خریداروں کی بڑی تعداد قربانی کے جانور خریدے بغیر واپس لوٹ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ کے موقع پر، حکومت نے کن سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق عیدالاضحیٰ کے قریب آنے کے باوجود مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور مجموعی معاشی دباؤ نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
بازار میں موجود شہری نبیل انور نے بتایا کہ وہ گھنٹوں جانوروں کے درمیان گھومنے کے باوجود کوئی خریداری نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق خریداروں میں سنجیدگی کم اور قیمتیں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے معاملات طے نہیں ہو رہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ اور چارے کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے جس نے مویشیوں کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اپریل میں ملک کی مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی جو تقریباً 2 سال بعد دوبارہ ’ڈبل ڈیجیٹ‘ سطح پر آئی ہے۔
ایک خریدار نے بتایا کہ وزن کے حساب سے جانوروں کی قیمتیں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ عام شہری کے لیے اکیلے قربانی کرنا مشکل ہو گیا ہے اسی لیے اب لوگ اجتماعی قربانی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت اب گھر بیٹھے ممکن، مگر کیسے؟
دوسری جانب مویشی منڈی میں موجود تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق جانوروں کی دیکھ بھال، خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ خریدار ان کی مقررہ قیمتیں ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ایک تاجر نے بتایا کہ بعض اوقات خریدار ان جانوروں کی قیمتیں بہت کم لگاتے ہیں جن پر ان کی لاگت بھی پوری نہیں ہو رہی۔
منڈی کے منتظمین کے مطابق اگرچہ روزانہ ہزاروں جانور فروخت ہو رہے ہیں تاہم مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث خریدار اب بڑے جانوروں کے بجائے نسبتاً چھوٹے جانوروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر کئی خریدار اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حالات میں اجتماعی قربانی اور مشترکہ انتظامات ہی زیادہ قابلِ عمل راستہ بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: زارا نور عباس قربانی کے جانوروں پر ظلم کے خلاف بول پڑیں، عوام سے اہم اپیل
بازار میں شام ڈھلنے کے ساتھ ہی جہاں ایک طرف تاجر اپنے جانوروں کے ساتھ رات گزارنے کی تیاری کرتے ہیں وہیں کئی شہری اب بھی قیمتوں اور استطاعت کے درمیان تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔












