مکہ مکرمہ میں رواں سال حج کے موقع پر شدید گرمی کی پیش گوئی کے پیش نظر سعودی عرب نے حجاج کرام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید کولنگ اور شیڈنگ نظام کو مزید وسعت دے دی ہے۔
لاکھوں عازمینِ حج کی آمد سے قبل مقدس مقامات پر سایہ دار راستے، ٹھنڈک فراہم کرنے والے اسپرے سسٹمز اور گرمی کم جذب کرنے والی خصوصی سڑکیں تیار کی گئی ہیں تاکہ عبادات کے دوران حجاج کو گرمی کی شدت سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ڈیڑھ ملین سے زائد عازمینِ حج کی مکہ مکرمہ آمد کے ساتھ ہی سعودی حکام نے مقدس مقامات پر گرمی کے اثرات کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے ہیں۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بظاہر عام دکھائی دینے والے سایہ دار راستے دراصل ایک وسیع انجینیئرنگ منصوبے کا حصہ ہیں، جن کا مقصد دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماعات میں شامل افراد کو شدید گرمی سے بچانا اور ان کی نقل و حرکت کو آسان بنانا ہے۔
حالیہ برسوں میں سعودی حکام نے مقدس مقامات کو ملانے والے مصروف پیدل راستوں پر جدید چھتریوں اور سایہ دار راہداریوں کا دائرہ وسیع کیا ہے، جو حجاج کو دھوپ کی براہِ راست تپش سے بچانے کے ساتھ طویل پیدل سفر کے دوران جسمانی تھکن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
گرمی کے اثرات کم کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت خصوصی ریفلیکٹو فرش بھی استعمال کیے گئے ہیں، جو عام سڑکوں کے مقابلے میں کم حرارت جذب کرتے ہیں۔ اس اقدام سے دن کے اوقات میں زمین کا درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔
مزید برآں، ہجوم والے مقامات پر اضافی سایہ دار آرام گاہیں قائم کی گئی ہیں تاکہ حجاج کچھ دیر آرام کرکے خود کو ٹھنڈا اور تازہ دم کر سکیں۔
سعودی حکام نے صرف سایہ فراہم کرنے تک ہی اقدامات محدود نہیں رکھے بلکہ شدید رش والے علاقوں میں ہائی پریشر مسٹنگ سسٹمز بھی نصب کیے ہیں، جو باریک پانی کے چھڑکاؤ کے ذریعے ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سبزہ اور پودوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ درجہ حرارت کم کرنے اور فضائی معیار بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔
ادھر ماہرینِ موسمیات نے حج کے اہم ایام کے دوران دن کے اوقات میں غیرمعمولی گرمی کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث سعودی عرب نے حجاج کی حفاظت اور سہولت کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔














