کوئٹہ کے قریب پشین اسٹاپ کے مقام پر شٹل ٹرین پر بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان و فتنہ الخوارج کے بزدلانہ حملے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین، بچوں اور بزرگ مسافروں سمیت عام شہری سفر کر رہے تھے۔
حکام اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی مسافر ٹرین عام شہریوں کو لے کر جا رہی تھی، جن کا مقصد اپنے گھروں کو واپسی اور عید کی خوشیوں میں شرکت تھا۔ حملے میں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا اور یہ اقدام مکمل طور پر انسانی اقدار کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ سے ٹرین آپریشن ایک روز کیلئے بند، جعفر ایکسپریس بھی منسوخ
بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاکستان کی سفارتی اور اسٹریٹجک کامیابیاں بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث مبینہ طور پر دشمن عناصر اور ان کے پراکسی گروپس دباؤ میں آ گئے ہیں اور ایسے بزدلانہ اقدامات کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق امن دشمن عناصر براہ راست سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کے بجائے نرم اہداف کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

حملہ چمن پھاٹک کے قریب کیا گیا جس کا مقصد بے گناہ مسافروں کو نقصان پہنچانا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ آور کسی بھی انسانی ہمدردی یا اخلاقی اصول سے عاری ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ٹرین، شہری انفراسٹرکچر اور عام لوگوں کو نشانہ بنانا نہ تو کسی مزاحمت کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی اسے کسی صورت جائز قرار دیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ایک قابلِ مذمت دہشت گردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین سروس پھر معطل کرنے کا فیصلہ، وجہ کیا ہے؟
دھماکے کے نتیجے میں ٹرین کو نقصان پہنچا جبکہ قریبی گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی متاثر کیا گیا، جس سے شہری جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج جیسے عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ گروہ صوبے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ عناصر بیرونی ایجنڈے کے تحت پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم ایسے بزدلانہ حملے ان کی کمزوری اور ناکامی کو ہی ظاہر کرتے ہیں۔













