وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے چینی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صنعتیں اور کاروبار منتقل کرنے، مقامی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے لیے سود مند ماڈل قرار دیا ہے۔
چین کے شہر ہانگژو میں پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس برائے آئی ٹی، ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ آج چین میں لیبر کافی مہنگی ہو چکی ہے جبکہ چین تیزی سے اعلیٰ درجے کی صنعتی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
“It is no coincidence that we are celebrating 75 years of our great friendship between Pakistan and China, along with this third B2B event in a row. Starting from Shenzhen to Beijing, and now in Hangzhou, a city which we are visiting for the first time, we are all deeply… pic.twitter.com/CZHM7nV2zt
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 24, 2026
مزید پڑھیں: پاکستان چین زرعی شراکت داری، کسانوں کو جدید اور سستی مشینری فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز
انہوں نے کہاکہ وہ صنعتیں جن میں مہنگی لیبر کے باعث چین کی مسابقت کم ہورہی ہے، پاکستان منتقل ہو سکتی ہیں۔ چینی کمپنیاں پاکستان میں پلانٹس اور مشینری لا کر پاکستانی کاروباری شخصیات کے ساتھ مشترکہ منصوبے قائم کریں، مصنوعات تیار کریں اور انہیں تیسرے ممالک کو برآمد کریں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل، لیدر اور دیگر شعبوں میں یہ ماڈل مستقبل میں شاندار کامیابی حاصل کرےگا اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
کراچی ایکسپورٹ زون میں سرمایہ کاری کی دعوت
وزیراعظم شہباز شریف نے چینی تاجروں کو کراچی میں قائم ایکسپورٹ زون کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ وہاں کاروباری مواقع انتہائی وسیع ہیں اور سرمایہ کار مختلف تجارتی امکانات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انہوں نے معدنیات اور قیمتی پتھروں کے شعبے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں معدنی ذخائر کی بڑی مقدار موجود ہے، جس سے مشترکہ سرمایہ کاری کے ذریعے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
زرعی شعبے میں تعاون کی ضرورت
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی معیشت رکھتا ہے۔ گزشتہ سال ایک ہزار پاکستانی طلبہ کو جدید زرعی تربیت کے لیے چین بھیجا گیا، جو واپس آ کر بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم یہ صرف ابتدا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کو فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، معیاری بیج، جدید زرعی طریقوں اور میکانائزیشن کی اشد ضرورت ہے تاکہ زرعی شعبے میں کئی گنا ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین ہر سال قریباً 100 ارب ڈالر مالیت کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے، لہٰذا دونوں ممالک کو اس شعبے میں قریبی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستان اور چین آئرن برادرز کے طور پر مل کر کام کریں تو نہ صرف دیہی علاقوں میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد بھی ترقی کریں گے اور زرعی مصنوعات کو ویلیو ایڈیشن کے بعد چین برآمد کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہاکہ آئندہ 5 سے 7 برسوں میں پاکستان کی چین کو زرعی برآمدات میں 10 ارب ڈالر تک اضافہ ممکن ہے۔
آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور خصوصی اقتصادی زونز
وزیراعظم نے کہاکہ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت میں بے پناہ امکانات موجود ہیں جبکہ خصوصی اقتصادی زونز بھی نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں 6 ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جا رہا ہے جہاں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ چینی سرمایہ کار اور پاکستانی کاروباری شخصیات مشترکہ سرمایہ کاری کر سکیں۔
وزیراعظم کے مطابق اس زون میں جدید انفراسٹرکچر، آسان کاروباری ماحول، ون ونڈو آپریشن اور چینی سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت سرمایہ کاروں کو طویل المدتی بنیادوں پر پرکشش شرائط کے ساتھ زمین لیز پر فراہم کرے گی۔
پاکستان کو قرض نہیں، سرمایہ کاری چاہیے
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیاکہ پاکستان کو قرضوں یا امداد کی نہیں بلکہ مہارت، تجربے اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ امداد اور خیرات کبھی قوموں کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں کرتیں، جبکہ سرمایہ کاری اور محنت ہی کسی ملک کو مضبوط بناتی ہے۔
پاک چین دوستی پر اظہار خیال
وزیراعظم نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی متحرک قیادت میں پاکستان اور چین کی دوستی سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہو چکی ہے، جبکہ خلائی پروگرام کے آغاز کے بعد یہ تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دورے کے دوران اربوں ڈالر کے مفاہمتی معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 30 فیصد معاہدے عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاک چین دوستی شاہراہِ ریشم کے دور سے قائم ہے اور اب دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہی ہے، جس میں چین نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا بڑا اثاثہ ہے اور وفاقی و صوبائی سطح پر نوجوانوں کو تربیت اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن فراہم کرنے کے لیے مختلف پروگرام جاری ہیں تاکہ انہیں بہتر روزگار مل سکے۔
ہانگژو کی ترقی اور صدر شی جن پنگ کی قیادت کی تعریف
وزیراعظم نے ہانگژو شہر کی خوبصورتی، انتظامی ڈھانچے اور جدید نظم و نسق کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سب صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے 2002 سے 2007 کے دوران اس شہر اور صوبے کو دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے علاقوں میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ ایک وژنری رہنما ہیں جنہوں نے چین کو عالمی اقتصادی اور عسکری طاقت بنایا، اور پاکستان کو اپنے مخلص دوست کی اس ترقی پر فخر ہے۔
مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے
تقریب سے وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، سروسز گروپ پاکستان کے سی ای او عمر سعید اور دیگر نے خطاب کیا۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کا چین کا دورہ، پاکستان چین سیاسی و اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار
مقررین نے مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی اور اپنے تجربات شرکا کے ساتھ شیئر کیے۔
بعد ازاں وزیراعظم نے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب کا بھی مشاہدہ کیا۔













