چین کے سرکاری دورے پر موجود وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہانگژو میں مختلف اہم چینی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں جن کا مقصد پاک چین کارپوریٹ روابط کو مزید فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں لیبر مہنگی ہوچکی، چینی کمپنیاں صنعتیں پاکستان منتقل کریں، وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش
وزیراعظم نے شینگ ہوا نینگ یوان کے جی کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ایگنس سیو سے ملاقات میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون پر گفتگو کی۔ شہباز شریف نے پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے یہاں صاف توانائی کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ اور اس کی بڑھتی ہوئی طلب کی طرف خصوصی توجہ مبذول کروائی۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif along with Mr. Wang Hao, Party Secretary of the CPC Zhejiang Provincial Committee witnessing the signing ceremony of MoU of Establishing Friendship Province Relationship between Zhejian & Punjab and Document of Understanding for… pic.twitter.com/urpxfuCCdu
— Prime Minister's Office (@PakPMO) May 23, 2026
جدید بیٹری ٹیکنالوجی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام پر تعاون کے لیے وزیراعظم نے CATL کے ایگزیکٹو صدر مسٹر آسکر لوؤ سے ملاقات کی تاکہ پاکستان کی صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسٹارچارج گروپ کی چیئرپرسن ڈین وے شاؤ سے ملاقات کر کے الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر اور اسمارٹ موبیلیٹی سسٹمز کے شعبے میں شراکت داری پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لیے چین کے وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے
پاکستان کی دواسازی اور طبی صنعت کو مزید بہتر بنانے کے لیے شیوژینگ فارماسیوٹیکلز کے صدر مسٹر ژن یوان نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع زیرِ بحث آئے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif meets Mr. Wang Hao, Party Secretary of the CPC Zhejiang Provincial Committee in Hangzhou. 23 May 2026.#PMShehbazInChina pic.twitter.com/3jSwAPduL6
— Prime Minister's Office (@PakPMO) May 23, 2026
ان تمام ملاقاتوں کے دوران ملک میں نئی پیداواری فیکٹریوں کے قیام اور پہلے سے موجود پلانٹس کی توسیع کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کی حکومت پاکستان میں کاروبار میں آسانی کے لیے بہترین پالیسیاں فراہم کر رہی ہے، اور چینی و پاکستانی کمپنیوں کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون دونوں برادر ممالک کے معاشی تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔














