پاکستان اور چین کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

اتوار 24 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 7 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے گئے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صنعتیں منتقل کرنے اور مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی۔

وزیراعظم شہباز شریف ان دنوں چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس موقع پر چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ پاکستان چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کو قرضوں یا امداد سے زیادہ سرمایہ کاری، مہارت اور مشترکہ ترقی کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: چین میں لیبر مہنگی ہوچکی، چینی کمپنیاں صنعتیں پاکستان منتقل کریں، وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش

انہوں نے چینی کمپنیوں کو زراعت، آئی ٹی، خصوصی اقتصادی زونز، معدنیات اور کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ کراچی میں قائم خصوصی اقتصادی زون میں عالمی معیار کی سہولیات، ون ونڈو آپریشن اور طویل المدتی لیز پر زمین فراہم کی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان اب تک منعقد ہونے والی 5 بزنس ٹو بزنس کانفرنسوں کے دوران 20 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی 200 سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن میں سے قریباً 30 فیصد عملی معاہدوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ چین ہر سال قریباً 100 ارب ڈالر مالیت کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے، مگر اس میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ اگر جدید زرعی ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کے بیج اور مشینی کاشتکاری کو فروغ دیا جائے تو آئندہ 5 سے 7 برسوں میں پاکستان چین کو 10 ارب ڈالر تک زرعی مصنوعات برآمد کر سکتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ خصوصی اقتصادی زونز میں چینی سرمایہ کاری دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہوگی۔

انہوں نے چینی صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی صنعتیں پاکستان منتقل کریں، مقامی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے قائم کریں اور پاکستان میں تیار کی جانے والی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچائیں۔

وزیراعظم نے چینی صدر شی جنگ پنگ کو بصیرت افروز رہنما قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان کی قیادت میں چین عالمی اقتصادی اور عسکری قوت بن چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے اور پاکستان جلد ترقی کے سفر میں چین کا ہم قدم بنے گا۔

مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کے معاہدے

کانفرنس کے دوران ہاولو انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ اور فوجی فرٹیلائزر کے درمیان کھاد کی پیداوار سے متعلق 1.12 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

اسی طرح آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی اور آر آئی سی کے درمیان ایگرو کیمیکل، زرعی مشینری اور ملتان میں ریجنل آفس کے قیام کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کانفرنس سے خطاب میں کہاکہ سی پیک 2.0 اب صرف انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں رہا بلکہ یہ ڈیجیٹل سلک روٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں فائبر آپٹک، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، ای کامرس اور آئی ٹی تعاون شامل ہیں۔

کانفرنس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، پاکستانی و چینی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور مختلف کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

وزیراعظم کا علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ

وزیراعظم شہباز شریف نے ہانگژو میں علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین نے ان کا استقبال کیا۔

ملاقات کے دوران چیئرمین علی بابا گروپ جوو سائی نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی، تکنیکی جدت اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کو قابل تعریف قرار دیا۔

وزیراعظم نے ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کے شعبوں میں پاکستان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور نوجوانوں کو ہنر اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

اس موقع پر علی بابا گروپ اور پاکستان کے مختلف سرکاری و نجی اداروں کے درمیان متعدد اسٹریٹجک معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی ترقی کو تیز کرنا ہے۔

مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سلوشنز اور ای کامرس میں تعاون

پاکستان کے ادارے اگنائٹ اور علی بابا کلاؤڈ کے درمیان اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے مقامی اے آئی ماڈلز تیار کرنے، 5 لاکھ افراد کو جدید مہارتوں کی تربیت دینے اور اے آئی ہیکاتھونز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا۔

ڈی اے ایم او اکیڈمی اور اسکائی 47 پاکستان کے مختلف شہروں میں اے آئی سے چلنے والا بیماریوں کی تشخیص کا نظام متعارف کرائیں گے، جبکہ جامعات میں ایمباڈیڈ انٹیلیجنس پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان چین زرعی شراکت داری، کسانوں کو جدید اور سستی مشینری فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز

علی بابا اور سمیڈا کے درمیان معاہدے کے تحت کم از کم 2 ہزار پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو پاکستان پویلین کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائے گی۔

مالی شمولیت کے فروغ کے لیے کوکو ٹیک پاکستان میں Buy Now, Pay Later سروس متعارف کرائے گا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 30 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، تکنیکی تعاون، جدت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے اور پاکستان کو خطے میں ڈیجیٹل معیشت کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر مستحکم کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا، شہدا پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، حنیف عباسی

اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار، انڈیکس تقریباً 5 ہزار پوائنٹس گر گیا

جیف بیزوس کی سابق اہلیہ میکینزی اسکاٹ کا نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے 2 کروڑ ڈالر کا تاریخی عطیہ

کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر حملہ: پولیس نے جُرم کی منصوبہ بندی اور سہولت کار نیٹ ورک کی تفصیلات جاری کر دیں

جج کے ڈیسک پر کالا جادو کرنے والی 65 سالہ خاتون کمرہ عدالت سے گرفتار

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم