مرنے کے بعد یاد رکھے جانے کا خیال کیوں اہم ہے، اس کے اضافی فوائد کیا ہیں؟

پیر 25 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگر کسی سے پوچھا جائے کہ مرنے کے بعد لوگ آپ کو کس طرح یاد رکھیں گے تو شاید یہ سوال کئی لوگوں کے لیے بے چینی کا باعث بنے۔ تاہم نئی تحقیق بتاتی ہے کہ اپنی زندگی کے بعد چھوڑے جانے والے اثرات، یعنی اپنی وراثت کے بارے میں سوچنا ذہنی صحت بہتر بنانے اور زندگی میں مقصدیت پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اب بھی وقت ہے غذا اچھی طرح چبا کر کھائیں، جانیے بہتر ہاضمے کے علاوہ اس عمل کے ’بونس‘ فوائد

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی بولنگ گرین اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر بیتھ ہنٹر کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگ اپنی وراثت کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچتے حالانکہ ہر انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے پیچھے کچھ نہ کچھ چھوڑ کر جاتا ہے۔

بیتھ ہنٹر نے اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے والد کو الزائمر کی تشخیص ہوئی تو انہوں نے ان کے ساتھ گفتگو ریکارڈ کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ بعد میں ان کی آواز سن سکیں۔ تاہم ان کے والد نے اس سے انکار کیا اور اپنی جنگی یادداشتوں کو قلم بند کرنے کو ترجیح دی کیونکہ ان کے نزدیک یہی ان کی اصل وراثت تھی۔

ماہرین کے مطابق وراثت صرف دولت یا جائیداد چھوڑنے کا نام نہیں۔ اسے عمومی طور پر 3 اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں حیاتیاتی وراثت، مادی وراثت اور اقدار کی وراثت شامل ہے۔

حیاتیاتی وراثت میں اولاد یا جسمانی عطیات شامل ہیں جبکہ مادی وراثت میں دولت، جائیداد اور قیمتی اشیا شامل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے اہم سمجھی جانے والی اقدار کی وراثت ہے جس میں انسان اپنی سوچ، اخلاقیات، ثقافت اور تجربات آئندہ نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: ہڈیوں جیسے میٹیریلز تیار، مصنوعی کولہے زیادہ مضبوط اور دیرپا بنانے میں کامیابی

تحقیقی رپورٹس کے مطابق بہت سے لوگ اپنی وفات کے بعد جسم عطیہ کر کے بھی معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ایک تحقیق میں جسم عطیہ کرنے والے 57 فیصد افراد نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد سائنس کی ترقی میں حصہ ڈالنا تھا جبکہ کئی افراد نے اسے اپنی موت کو معنی دینے کا ذریعہ قرار دیا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اپنی وراثت کے بارے میں سوچنا انسان کو موت کے خوف سے نکال کر موت پر غور و فکر کی کیفیت میں لے جاتا ہے جس سے ذہنی دباؤ اور اضطراب میں کمی آ سکتی ہے۔

ڈیوک یونیورسٹی کی پروفیسر کمبرلی ویڈ بینزونی کے مطابق موت کا احساس انسان کو اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے اور یہی احساس اسے بہتر کام کرنے اور دوسروں کے لیے مثبت اثر چھوڑنے کی تحریک دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: دوست زیادہ ہوں تو اچھا، کم ہوں تو اور اچھا، جانیے کیسے؟

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اپنی اقدار، تجربات اور زندگی کے اسباق تحریری شکل میں محفوظ کرنا نہ صرف خود انسان کے لیے سکون کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے اہل خانہ کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انسان اپنی وفات کے بعد اپنی شہرت یا یادداشت پر کنٹرول نہیں رکھتا تاہم اپنی وراثت کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنا زندگی کے دوران زیادہ بامقصد فیصلے کرنے، دوسروں سے مضبوط تعلقات قائم کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق انسان کی یہ خواہش کہ وہ اپنے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں یاد رکھا جائے انسانی فطرت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس احساس کو نفسیات میں ’جنریٹیویٹی‘ کہا جاتا ہے یعنی آنے والی نسلوں کے لیے کچھ مثبت چھوڑنے کی خواہش۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی جذبہ انسان کو سماجی خدمت، تعلیم، رہنمائی اور دوسروں کی مدد جیسے کاموں کی طرف مائل کرتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کے تجربات، اقدار اور یادوں کو تحریری شکل دیتے ہیں یا انہیں دوسروں تک منتقل کرتے ہیں وہ اپنی زندگی کو زیادہ بامقصد محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک سادہ خط، آڈیو پیغام یا اپنی زندگی کے اہم اسباق قلم بند کرنا بھی آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ وراثت کے بارے میں سوچنا صرف عمر رسیدہ افراد کے لیے ضروری نہیں بلکہ نوجوانی ہی سے اس شعور کو اپنانا انسان کو بہتر فیصلے کرنے، تعلقات کو اہمیت دینے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا تھوڑی سی خودغرضی تعلقات کو بہتر بنا سکتی ہے؟ ماہرین کی دلچسپ رائے

ان کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کتنی دیر تک یاد رکھا جائے گا بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں ایسا کیا کیا جس سے دوسروں کی زندگی بہتر ہوئی۔ یہی سوچ انسان کو ایک بامقصد اور مطمئن زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp