سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی مدد سے ایسے نئے میٹیریلز تیار کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں جو انسانی ہڈی کی خصوصیات کی نقل کر سکیں اور کولہے کے امپلانٹس کو زیادہ مضبوط اور دیرپا بنا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: پلاسٹک سرجن کڈنی ٹرانسپلانٹ کیسے کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ میں غیرقانونی ٹرانسپلانٹ کیس کی سماعت
بی بی سی کے مطابق یہ تحقیق خاص طور پر ان مریضوں کے لیے اہم ہے جنہیں ’ہپ ریپلیسمنٹ‘ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ موجودہ امپلانٹس وقت کے ساتھ دباؤ اور استعمال کی وجہ سے خراب ہو جاتے ہیں۔
نیدرلینڈز کی لیڈن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے پروفیسر امیر زادپور اور ان کی ٹیم ایک ایسے منفرد میٹیریل کی تلاش میں تھے جو دباؤ پڑنے پر عام ربڑ بینڈ کے برعکس موٹا ہو جائے اور ساتھ ہی ہڈی کی طرح سخت بھی ہو۔ یہ خصوصیت قدرتی قوانینِ فزکس کے برعکس معلوم ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اسے تیار کرنا ایک بڑا سائنسی چیلنج تھا۔
تحقیق کے مطابق کولہے کی تبدیلی کے بعد مریض سالانہ تقریباً 20 لاکھ قدم چلتے ہیں جس سے امپلانٹس پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے اور وہ وقت کے ساتھ گھس جاتے ہیں جس کے باعث 10 سے 15 سال بعد دوبارہ سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے سائنس دانوں نے ایسے میٹیریلز پر کام کیا جو مختلف سمتوں میں مختلف انداز میں رد عمل ظاہر کریں تاکہ ہڈی اور امپلانٹ کے درمیان رابطہ مضبوط رہے اور جھٹکوں کو بہتر طریقے سے جذب کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: ہیئر ٹرانسپلانٹ کے دوران موسیقی، پشاور کے ڈاکٹر کو یہ خیال کیوں آیا؟
تاہم ’ایلیکسیٹک میٹیریلز‘ کہلانے والے یہ خاص مواد عموماً نرم ہوتے ہیں اور وزن برداشت کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے جس نے محققین کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا۔
اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ٹیم نے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا۔ اے آئی سسٹم کو مختلف میٹیریلز کی خصوصیات سمجھنے کے لیے تربیت دی گئی جس کے بعد اس نے ایسے میٹا میٹیریلز کے ڈیزائن تجویز کیے جن کی اندرونی ساخت تبدیل کر کے مطلوبہ خصوصیات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ ماہرین کے مطابق ’ایلیکسیٹک‘ اور ’‘میٹا‘ میٹیریلز دراصل ایسے جدید مصنوعی میٹیریلز ہیں جنہیں خاص اندرونی ساخت کے ساتھ ڈیزائن کیا جاتا ہے تاکہ وہ عام مادّوں سے مختلف انداز میں ردِعمل ظاہر کریں۔ یہ میٹیریلز دباؤ یا کھنچاؤ کے دوران اپنی شکل اور مضبوطی کو اس طرح برقرار رکھتے ہیں کہ ہڈیوں کی قدرتی ساخت اور لچک کی بہتر نقل کر سکیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی خصوصیات مستقبل میں زیادہ مضبوط، دیرپا اور انسانی جسم سے بہتر مطابقت رکھنے والے ہڈیوں اور کولہے کے امپلانٹس کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بیماریوں سے بچاؤ اور صحتمند زندگی کے لیے روزانہ صرف 5 منٹ نکال لیں
ماہرین کے مطابق مشین لرننگ کی مدد سے اب ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ممکنہ ڈیزائن چند منٹوں میں تیار کیے جا سکتے ہیں، جو روایتی طریقوں سے ممکن نہیں تھا۔
اسی تحقیق کے تحت مزید ایسے جدید ڈیزائن بھی تیار کیے جا رہے ہیں جو ہڈیوں کے فریکچر کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان میں نرم اور جیل نما ڈھانچے شامل ہیں جن میں خلیات آسانی سے داخل ہو کر ہڈی کے ساتھ بہتر طور پر جڑ سکتے ہیں جس سے شفا یابی کا عمل بہتر ہو جاتا ہے۔
مزید تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دھاتی امپلانٹس بعض اوقات قدرتی ہڈی کی حرکت اور دباؤ کو کم کر دیتے ہیں جس سے اردگرد کی ہڈی کمزور ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس نئے میٹیریلز قدرتی ہڈی کی ساخت اور لچک کی بہتر نقل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: فطری ماحول میں صرف 20 منٹ گزارنا آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے امپلانٹس تیار کیے جا سکیں گے جو ہر مریض کی جسمانی ساخت کے مطابق مخصوص طور پر ڈیزائن ہوں گے اور چھوٹے آپریشن کے ذریعے جسم میں نصب ہو کر اندر جا کر پھیل سکیں گے۔














