وزیراعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں مختلف معروف چینی کمپنیوں کے اعلیٰ سطح وفود سے ملاقاتیں کیں، جن میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت اقتصادی، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: معاشی طاقت کے میدان میں چین کا کوئی ثانی نہیں، وزیراعظم شہبازشریف
وزیراعظم نے FAMSUN کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ژینگ جون چن کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان کے زرعی شعبے، خصوصاً اناج ذخیرہ کرنے، فیڈ کی پیداوار اور غذائی تحفظ میں کمپنی کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی کو حکومتی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کمپنی کو خصوصی اقتصادی زونز اور گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی منتقلی کی سہولیات قائم کرنے کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے شینڈونگ ژن شو گروپ کارپوریشن کے چیئرمین ہاؤ جیان شن اور ان کے وفد سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں بحری شعبے کی ترقی، بیٹری مینوفیکچرنگ، معدنیات کی پراسیسنگ اور صنعتی تعاون میں سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif meeting Mr. Chen Zhengjun, President and CEO of FAMSUN in Beijing on 26 May 2026.@AmirSaeedAbbasi @KulAalam @pmln_org pic.twitter.com/CRPCxqSIC6
— Media Talk (@mediatalk922) May 26, 2026
وزیراعظم نے پورٹ قاسم میں سی ٹو اسٹیل منصوبے، گوادر اور شمالی معدنیاتی شعبوں میں گروپ کی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے ان منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے چائنا کمیونیکیشنز کنسٹرکشن کمپنی (CCCC) اور چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن (CRBC) کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے قراقرم ہائی وے، رشکئی اسپیشل اکنامک زون اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں ان کمپنیوں کے کردار کو سراہا اور سی پیک کے تحت ایم ایل-1 اور رابطہ سازی کے منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کے درمیان تجارت، زراعت، ماحولیات اور میڈیا سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط
چینی کمپنیوں نے پاکستان کی اقتصادی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے زراعت، صنعتی پیداوار، لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

ملاقاتوں میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے، جبکہ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو کاروباری ملاقاتوں میں ہونے والے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔














