جب یہ سطور آپ پڑھ رہے ہوں گے، تب عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھ کرکے قصاب پر قربان ہونے کی تیاری بھی کرچکے ہوں گے جس کی آمد کے آثار ابھی کہیں دور دور نظر نہیں آ رہے ہوں گے۔
آئیے! جب تک قصاب صاحب تشریف نہیں لاتے، تب تک کچھ خوش کردینے والی باتیں کر لیتے ہیں۔ عید کے دن خوش کن باتیں کرنی چاہئیں۔ سال کے سارے دن ہم مصائب و مشکلات کے درمیان گزار دیتے ہیں، کیا ضروری ہے کہ عید کے دن بھی کڑوی کسیلی باتیں کی جائیں۔ کچھ تو خوش کردینے والے بول بولنے چاہئیں۔ کچھ ایسا سننا چاہیے کہ جی خوش ہوجائے، انسان سارا دکھ درد بھول جائے۔ پاکستانی قوم کے لیے یہ سب کچھ بہت ضروری ہے۔
سلام ہے اِس پاکستانی قوم کو جو دنیا کی چند نہایت سخت جان اقوام میں سے ہے۔ اس کی نسلیں مافیاؤں کا ظلم سہتے ہوئے پیدا ہوتی ہیں اور اسی انداز میں موت کے گھاٹ اتر جاتی ہیں۔ نہ مافیاز ختم ہوتے ہیں، نہ ظلم ختم ہوتا ہے اور نہ ہی ظلم سہنے والے۔ ایک نسل قبروں میں اترتی ہے تو اگلی نسل سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
یہ ابھی چند برسوں سے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں کہ مرد بیوی اور بچوں کو ذبح کرکے خودکشی کرلیتے ہیں، مائیں بچوں سمیت دریاؤں اور نہروں میں کود جاتی ہیں۔ اس کا ایک سبب شاید یہ ہے کہ ان کے اندر قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے ، اور دوسرا سبب یہ ہے کہ اب مافیاؤں کی تعداد بہت زیادہ ہوچکی ہے۔
صبح سویرے نیند سے بیدار ہونے سے آدھی رات سونے تک انہی مافیاؤں سے واسطہ پڑتا ہے۔ بھلے وقتوں میں یہ مافیاز ایک ایک کرکے ہم پر کوڑا برساتے تھے، پھر ان مافیاؤں نے انڈے بچے دیدیے۔ اب بیک وقت چار، چھ، آٹھ بلکہ دس مافیاؤں کے مقابل ایک پاکستانی ہوتا ہے اور ان کے چھانٹے کھا رہا ہوتا ہے۔
ان مافیاز میں پیٹرول مافیا شاید اب پہلے نمبر پر ہے جو پہلے سال میں ایک دفعہ پیٹرول مہنگا کرتا تھا، پھر سال میں دو بار، پھر ہرماہ، پھر پندرہ روز بعد، اب ہر ہفتے۔ بلکہ بعض ہفتے میں دو بار بھی۔ اور پھر بجلی فراہم کرنے والے مافیا کا تذکرہ بھی ضروری ہے جس کا بچھایا ہوا انفراسٹرکچر ہوا کا ایک جھونکا برداشت نہیں کرتا، جو بجلی چوری روکنے کی ہمت نہیں رکھتا( یا بجلی چوری روکنا نہیں چاہتا) اور اس بجلی چوری کا معاوضہ دسیوں، بیسیوں ٹیکسز کے ساتھ ان لوگوں سے وصول کرتا ہے جو بجلی کے بل ادا کرتے ہیں۔ افسوس! اس ملک کے ’عوام دوست‘ وزیراعظم کو بھی یہ اندھیر نگری نظر نہیں آتی۔ اور وزیر بجلی کے گلے میں ’ہلالِ امتیاز‘ لٹکا دیا جاتا ہے۔
ان مافیاؤں میں گیس فراہم کرنے والا مافیا کسی سے پیچھے نہیں، جو سارا سال روتا رہتا ہے کہ گیس کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں حالانکہ ہر روز ایک کے بعد دوسری خبر آتی ہے کہ ملک کے فلاں علاقے میں گیس کے ذخائر نکلے ہیں۔
اور پھر موبائل کمپنیوں کا مافیا جو صارفین کو ایک طرف سستے پیکجز فراہم کرنے کے اعلان کرتا ہے اور دوسری طرف انہی پیکجز کے ساتھ ایسے پیکجز بھی چالو کردیتا ہے جسے چالو کرنے کی درخواست صارف نے کبھی نہیں کی ہوتی۔ اور پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی والے یہ سب کچھ جان کر بھی موبائل کمپنی مافیا کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔
بینک مافیا بھی سرفہرست مافیاؤں میں شامل ہے جو کسی باؤلے کتے کی طرح صارفین کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ وہ چھپ چھپ کر صارفین کی رقم سے پیسے چوری کرتا ہے، جب چاہتا ہے کہ ’نئی شرائط و ضوابط‘ لاگو کرتا ہے لیکن صارفین کو نہیں بتاتا کہ یہ ’نئی شرائط و ضوابط‘ ہیں کیا؟
آخر ایک پاکستانی کس کس مافیا کا ذکر کرے۔ طبقہ اشرافیہ سے ٹیکس جمع نہ کرنے اور تنخواہ دار مڈل کلاس سے ٹیکسز نچوڑتے رہنے والا مافیا۔ یہ مافیا اس قدر کُھل کر کھیل رہا ہے کہ وقت کا وزیر اعظم صرف یہی پوچھنے کی ہمت کر پاتا ہے کہ اے طبقہ اشرافیہ! تم ہی بتاؤ کہ کتنا ٹیکس دیتے ہو؟ یہ مافیا ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے تنخواہ دار طبقے پر ہی ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ وقت کے وزیر اعظم کو بھی اس کی خبر ہے لیکن وہ اس مافیا کو روش درست کرنے کی بات کہہ نہیں سکتا۔
اس ملک میں دیگر مافیاز بھی ’سرفہرست‘ مافیاؤں سے پیچھے نہیں۔ مثلاً معمولی تنخواہیں بھی ترسا ترسا کر دینے والا مافیا، اور پھر ان معمولی تنخواہوں میں برسوں تک اضافہ کرنے والا مافیا۔ کتنے پرائیویٹ ادارے اسی انداز میں ظلم و استحصال کیے جارہے ہیں لیکن کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں۔
اور تو اور یہ ہمارے ’مسیحا‘ ہونے کا دعوی کرنے والا مافیا جو مریض سے بھی ساری آمدن اور اثاثے چھین لینے پر اتارو ہوتا ہے۔ اس مافیا کے پاس ایک مرض کا شکار انسان آ جائے سہی پھر وہ زندگی کی آخری سانس تک ایک کے بعد دوسرے امراض کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔اور ان کا ’کلائنٹ‘ بنا رہتا ہے۔ اس مافیا کے مددگار مافیا کا بھی انسانی زندگی میں کردار کم اہم نہیں ہوتا جو ایسی اشیائے خورونوش تیار کرتا اور بیچتا ہے جن سے کینسر سمیت طرح طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔
اسی طرح وکیلوں کا مافیا جس کے پاس ایک بار سائل آئے اور پھر تاریخ پر تاریخ، تاریخ پر تاریخ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے،سائل مر جاتا ہے، نہ مقدمہ ختم ہوتا ہے، نہ وکیل کو موت آتی ہے نہ ہی جج کو۔ اور ججز مافیا کے کیا کہنے، جو غریب کے فلیٹس گرانے والوں سے کہتے ہیں کہ بم مار کر گرا دو نسلہ ٹاور کو اور امیروں کے فلیٹس( کانسٹی ٹیوشن ون) کے بارے میں فیصلہ دیتے ہیں کہ انھیں ہرگز بے دخل نہ کیا جائے۔ ان ججوں کو انیس برس بعد پتہ چلتا ہے کہ فلاں ملزم بے گناہ تھا۔ جب بے گناہی کا فیصلہ سنایا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ملزم برسوں پہلے جیل میں سسک سسک کر مرگیا تھا۔ ان ججوں کو بائیس سال بعد پتہ چلتا ہے کہ فلاں ملزم کی نظر ثانی کی اپیل کہیں گم ہوگئی تھی۔ اور پھر وہ فیصلہ سناتے ہیں کہ جب تک وہ نظر ثانی اپیل مل نہیں جاتی، ہم کچھ نہیں کرسکتے۔
اتنے سارے مافیاز کے ذکر کے بعد ایک پاکستانی عید الاضحیٰ کے موقع ابھرنے والے مافیاز کی بات بھلا کس منہ سے کرے؟ جہاں اتنے بڑے بڑے مافیاز پاکستانیوں کی ہڈیاں چچوڑتے رہتے ہیں تو یہ قربانی کے جانور بیچنے والے اور قصاب حضرات بھی اسے بھنبھوڑ لیں گے، یہ بھی اس کی ہڈیاں چچوڑ لیں گے تو کیا فرق پڑے گا۔
یہ تحریر لکھنے کا مقصد محض یہ تھا کہ کچھ ایسی باتیں کی جائیں جو پاکستانیوں کو خوش کردیں، اسی غرض سے اس کی ہمت و برداشت کو سلام پیش کیا تھا، اسے دنیا کی چند سخت جان اقوام کی فہرست میں جگہ دی تھی۔ بلکہ یہ نمبر ون قوم ہے۔ بھلا! دنیا میں کوئی ایسی قوم ہے جو اتنے زیادہ مافیاؤں کے درمیان ہمت و برداشت کا مظاہرہ کرتی ہو؟ سلام ہے اس پاکستانی قوم کو !!!
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











