میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے کہا ہے کہ ایران کی قومی فٹبال ٹیم آئندہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران میکسیکو میں قیام کرے گی اور اپنے میچز کے روز امریکا سفر کرے گی، کیونکہ واشنگٹن نے ٹیم کو پورے ٹورنامنٹ کے دوران امریکا میں قیام کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق فیفا نے امریکی حکام کے فیصلے کے بعد میکسیکو حکومت سے رابطہ کیا، جس پر میکسیکو نے ایرانی ٹیم کو اپنے ہاں قیام کی اجازت دے دی۔
ایران کو گروپ جی میں نیوزی لینڈ اور بیلجیئم کے خلاف لاس اینجلس جبکہ مصر کے خلاف سیئٹل میں میچ کھیلنا ہیں۔
ایران فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج نے بتایا کہ ٹیم کا بیس امریکا کی ریاست ایریزونا سے منتقل کرکے میکسیکو کے سرحدی شہر تیجوانا منتقل کیا جا رہا ہے، جس کی فیفا نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ویزا مسائل سے بچنے اور ایران ایئر کی براہِ راست پروازوں کی سہولت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت اور امریکا میں قیام سے متعلق خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ایران نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنے میچز میکسیکو منتقل کرنے پر بھی فیفا سے بات چیت کی تھی، تاہم شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آفیشل ترانہ جاری، شکیرا نے رائلٹی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا اعلان کردیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ میں کہا تھا کہ ایران کی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت ہوگی، تاہم امریکا میں قیام ان کی ’سلامتی‘ کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔
ایران مسلسل چوتھی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے اور گزشتہ برس ایشیائی کوالیفائنگ راؤنڈ میں اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔














