دنیا بھر میں فضائی سفر کے دوران پاور بینکس اور دیگر لیتھیم آئن بیٹری سے چلنے والے آلات سے متعلق حفاظتی خدشات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاور بینک نے چین سے جنوبی کوریا جانے والی پرواز کے مسافروں کو اسپتال پہنچادیا
ماہرین کے مطابق دوران پرواز ان بیٹریوں کے زیادہ گرم ہونے یا آگ پکڑنے کے واقعات کا خدشہ رہتا ہے جس کے باعث عالمی سطح پر ایئرلائنز اور ہوا بازی کے ادارے مسافروں کے لیے احتیاطی ہدایات مزید سخت کر رہے ہیں۔
حفاظتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاور بینکس، موبائل فونز اور دیگر ری چارج ایبل ڈیوائسز میں استعمال ہونے والی لیتھیم آئن بیٹریاں مخصوص حالات میں شدید حرارت پیدا کر سکتی ہیں جو جہاز میں آگ لگنے کے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاور بینکس سے متعلق سفری قواعد پر سختی سے عمل کریں۔
سول ایوی ایشن کے نمائندے جوناتھن نکولسن کے مطابق پاور بینکس کو چیک اِن سامان میں رکھنے کے بجائے اپنے ساتھ کیبن میں رکھنا ضروری ہے جبکہ دورانِ پرواز انہیں چارج کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اسی مرحلے پر زیادہ گرم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: ایمریٹس نے اپنی پروازوں میں پاور بینک ساتھ رکھنے کی پابندی کیوں لگائی؟
انہوں نے کہا کہ پاور بینکس کو چیک اِن سامان میں نہ رکھنے جیسی پابندیاں غیر ضروری نہیں بلکہ مسافروں کی حفاظت کے لیے ہیں۔
پاور بینک کی وجہ سے فلائٹ منزل سے پہلے اتار لی گئی
یہ انتباہ اس واقعے کے بعد سامنے آیا جب ایزی جیٹ کی ایک پرواز کو پاور بینک کے باعث احتیاطاً رخ تبدیل کرنا پڑا۔ اس اطلاع کے بعد مصر جانے والی پرواز کو احتیاطاً روم منتقل کرنا پڑا کہ ایک مسافر نے پاور بینک سامان میں رکھا ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق مسافروں کو معیاری پاور بینکس استعمال کرنے، انہیں نقصان سے بچانے اور ایئرلائنز کی ہدایات پر مکمل عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فضائی سفر محفوظ بنایا جا سکے۔
برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں فضائی سفر کے دوران پاور بینکس سے متعلق سنگین مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفر سے قبل متعلقہ قواعد و ضوابط ضرور چیک کریں۔
مزید پڑھیں: چین میں پاور بینکس کے ساتھ فضائی سفر پر پابندی کیوں لگائی گئی؟
برطانوی ایوی ایشن ریگولیٹر کے مطابق پورٹیبل چارجرز زیادہ گرم ہونے یا آگ پکڑنے کا سبب بن سکتے ہیں اس لیے مسافروں میں اس حوالے سے مزید آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
پاور بینک سے متعلق بنیادی بین الاقوامی قواعد
پاور بینک ہمیشہ اپنے ساتھ کیبن میں رکھیں، چیک اِن سامان میں ہرگز نہ رکھیں۔
ہر مسافر زیادہ سے زیادہ 2 پاور بینک ساتھ لے جا سکتا ہے۔
دوران پرواز پاور بینک استعمال نہ کریں اور اسے ہرگز چارج نہ کریں کیونکہ اسی دوران زیادہ گرم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سی اے اے نے اعلان کیا ہے کہ وہ موسم گرما میں برطانوی ایئرلائنز کے ساتھ مل کر آگاہی مہم چلائے گی تاکہ مسافروں کو ان قواعد کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
انٹرنیشنل حفاظتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں اوسطاً ہر ہفتے دو پروازوں میں لیتھیم آئن بیٹری کے زیادہ گرم ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سنہ 2019 کے مقابلے میں ایسے واقعات میں 15 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق پاور بینکس میں موجود بڑی لیتھیم بیٹریاں شدید آگ کا باعث بن سکتی ہیں اس لیے مسافروں کو چاہیے کہ معیاری مصنوعات استعمال کریں اور انہیں احتیاط سے سنبھالیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا آپ کا پاور بینک جعلی ہے؟ ان علامات سے پتہ چلائیں
ایئرلائنز عموماً ہدایت دیتی ہیں کہ پاور بینکس کو اوورہیڈ لاکر کے بجائے نشست کے نیچے موجود بیگ میں رکھا جائے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری رسائی ممکن ہو۔














