پاکستان کی بلیو اکانومی میں بے پناہ مواقع: درست حکمت عملی سے ملک کی تقدیر کیسے بدلی جا سکتی ہے؟

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے پاس ایک طویل ساحلی پٹی موجود ہے اور دنیا بھر میں بلیو اکانومی کا معیشتوں میں بہتری میں اہم کردار ہے۔ اس شعبے میں ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں، مزید کیا بہتری آسکتی ہے اور اس کی ترقی میں کون کون سی رکاوٹیں موجود ہیں؟ اس حوالے سے فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ظفر پراچہ نے حکومت کو کچھ تجاویز دی ہیں۔

ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ بلیو اکانومی میں مواقع اور امکانات بے شمار ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فشریز کے شعبے میں ہم نے ابھی تک اپنی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کا سفر ہی شروع نہیں کیا۔ آج بھی ہم دہائیوں پرانے اور روایتی طریقوں پر انحصار کررہے ہیں۔ ہمارے ماہی گیر اب بھی انہی پرانی موٹر بوٹس اور لانچوں کے ذریعے سمندر میں شکار کرنے پر مجبور ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت بلیو اکانومی کے وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں: وزیر خزانہ

انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں فشریز کے شعبے میں جدید اور بڑے ٹرالرز استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں اب بھی روایتی طریقہ کار رائج ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی ماہی گیروں کے تحفظات بالکل جائز ہیں، کیونکہ ان کے مطابق بڑے ٹرالرز سمندر میں آکر زیادہ تر شکار سمیٹ لیتے ہیں، جس کے باعث چھوٹے ماہی گیروں کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ فشریز سے متعلق پالیسی مقامی ماہی گیروں کے مفادات اور ان کے تمام جائز تحفظات کو سامنے رکھ کر مرتب کی جائے۔

مچھیروں کی حالتِ زار اور جدید ٹیکنالوجی

ظفر پراچہ کے مطابق پاکستان میں ماہی گیروں کی ایک بڑی تعداد آج بھی شدید غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی، بلوچستان کے ساحلی علاقوں یا جزیروں کا دورہ کیا جائے تو وہاں بچوں کے لیے معیاری تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بیشتر ماہی گیر روزانہ محنت مزدوری کرتے ہیں اور دن بھر کی کمائی سے شام کو بمشکل اپنے اہلِ خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پاتے ہیں۔

ظفر پراچہ کے مطابق ماہی گیروں کو انفرادی بنیادوں پر قرضے دینے کے بجائے پانچ سے سات افراد پر مشتمل ایسوسی ایشن یا گروپ تشکیل دے کر اجتماعی طور پر قرض فراہم کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ماڈل بنایا جائے جس میں اگر ایک فرد قرض کی ادائیگی میں مشکلات کا شکار ہو تو گروپ کے دیگر ارکان اس کی معاونت کریں۔

انہوں نے تجویز دی کہ ایسے گروپس کو الگ الگ چھوٹی لانچوں کے بجائے ایک جدید فشنگ ٹرالر فراہم کیا جائے تاکہ ان کی پیداواری صلاحیت اور آمدن میں اضافہ ہو۔

ظفر پراچہ نے مزید کہاکہ اس وقت پاکستان میں مچھلی کو محفوظ کرنے اور سنبھالنے کے لیے زیادہ تر روایتی طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، جو بین الاقوامی معیار اور برآمدی تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان ابھی تک خلیجی، اسکینڈے نیوین اور یورپی ممالک کے معیار کے مطابق سی فوڈ تیار اور برآمد کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غیر ملکی جہاز کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر آ کر پاکستان سے خام سی فوڈ نسبتاً کم قیمت پر خریدتے ہیں، پھر اسے اپنے ممالک میں لے جا کر جدید طریقوں سے پروسیس اور ویلیو ایڈیشن کرتے ہیں، جس کے بعد وہی مصنوعات عالمی منڈی میں کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔

‏‎ویلیو ایڈیشن اور ایکسپورٹ میں اضافہ

ظفر پراچہ نے کہاکہ جس طرح پاکستان میں چکن انڈسٹری میں کے اینڈ این سمیت دیگر ریڈی ٹو کک برانڈز نے ویلیو ایڈیشن اور جدید پروسیسنگ کے ذریعے نمایاں کامیابی حاصل کی، اسی طرز کا ماڈل سی فوڈ انڈسٹری میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان سی فوڈ کی جدید پروسیسنگ، پیکنگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے تو ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور سی فوڈ ایکسپورٹس بہت تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

یہ سیکٹر حیران کن نتائج کیسے دے سکتا ہے؟

ظفر پراچہ نے کہاکہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں سی فوڈ کی برآمدات قریباً 400 ملین ڈالر سے بڑھا کر 500 ملین ڈالر تک پہنچائی ہیں، تاہم یہ پیشرفت عالمی امکانات کے مقابلے میں اب بھی بہت محدود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بلیو اکانومی کا حجم قریباً 600 سے 700 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جبکہ پاکستان کا حصہ اس کا آدھے فیصد کے برابر بھی نہیں بنتا۔

انہوں نے کہاکہ اگر ہم جدید فشریز، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدی معیار پر توجہ دیں تو اس شعبے میں غیر معمولی ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

‏‎کاروباری لاگت اور پرانے طریقوں کا نقصان

‎ظفر پراچہ کے مطابق بدقسمتی سے ہماری انڈسٹری بھی نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں ہچکچاتی ہے اور کم سے کم لاگت میں زیادہ نفع کمانا چاہتی ہے، لیکن جب تک آپ خود کو اپ گریڈ نہیں کریں گے، نتائج نہیں مل سکتے۔

ظفر پراچہ نے کہاکہ اگر آج بھی کوئی شخص 2000 ماڈل کی گاڑی استعمال کر رہا ہو، جبکہ سال 2026 ہے، تو ظاہر ہے کہ نئی گاڑی کے مقابلے میں رفتار، فیچرز، ایندھن کی بچت اور آپریٹنگ لاگت میں واضح فرق ہوگا۔

انہوں نے اسی مثال کو فشریز کے شعبے سے جوڑتے ہوئے کہاکہ اگر کوئی 1950 کی بس میں کوئٹہ جانے کی کوشش کرے تو سفر میں کئی دن لگ جائیں گے، جبکہ جدید بس یہی فاصلہ چند گھنٹوں میں طے کر لیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فشریز کے شعبے میں بھی ہمیں پرانے طریقوں کے بجائے جدید ٹیکنالوجی، آلات اور طریقہ کار اپنانا ہوں گے، تب ہی ہم عالمی معیار کا مقابلہ کر سکیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بڑی بین الاقوامی کمپنیاں اب سمندر کے اندر ہی پروسیسنگ جہازوں پر سب کچھ کر لیتی ہیں، انہیں واپس ساحل پر آنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، ہمیں بھی اس لیول پر جانا پڑے گا۔

‏‎انفراسٹرکچر کی بحالی اور نئے منصوبے

ظفر پراچہ نے کہاکہ پاکستان میں فشریز کے شعبے کا بنیادی ڈھانچہ بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ ان کے مطابق کیماڑی اور پی اے ایف کریک کے قریب قائم پرانی فش لینڈنگ جیٹیاں اب بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ساحلی علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی فش مارکیٹیں، لینڈنگ جیٹیاں اور جدید سہولیات قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں بھی گزشتہ 3 سے 4 دہائیوں سے قریباً وہی روایتی نظام رائج ہے، جبکہ وہاں مچھلی کی ترسیل اور ٹرانسپورٹیشن کے مسائل بھی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

‏‎مستقبل کا روڈ میپ

‎ظفر پراچہ کہتے ہیں کہ اگر ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشب کے ساتھ آئندہ کا روڈ میپ تیار کریں تو اگلے 5 سالوں میں 10 سے 15 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ کا ہدف حاصل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

ظفر پراچہ نے کہاکہ جس طرح پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اسی طرح فشریز کا شعبہ بھی غیر معمولی ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات نے نئے ریکارڈ قائم کر دیے، اس کامیابی کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز حاصل کرنا اور عالمی معیار کے مطابق پروسیسنگ، پیکنگ اور کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ریڈی ٹو ایٹ، فروزن اور ویلیو ایڈڈ سی فوڈ مصنوعات تیار کرکے عالمی منڈی، خصوصاً پڑوسی ممالک کو برآمد کرنا شروع کر دے تو یہ نہ صرف سی فوڈ انڈسٹری بلکہ مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت کے لیے بھی گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارتی وزیرِ تعلیم کی برطرفی ہندوتوا تعلیمی ایجنڈے کے لیے بڑا دھچکا قرار

کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، بھارتی مؤقف مسترد کرتے ہیں، خواجہ آصف

ایس اینڈ پی کا پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ، پاکستان اب کس کیٹیگری میں آگیا ہے اور اس کا فائدہ کیا ہوگا؟

کشمیری مہاجرین کی 12 اسمبلی نشستیں: تاریخ، آئینی حیثیت اور موجودہ تنازع

دبئی کی نئی ’دبئی انوائٹ اسکیم‘ کیا ہے؟ پاکستانی اس سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں