پاکستان میں مارچ 2026 میں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد اپریل میں موبائل ڈیٹا استعمال میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم ماہرین کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل استعمال اور موبائل انٹرنیٹ کی مجموعی ترقی کا رجحان بدستور مضبوط ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں فی صارف اوسط ڈیٹا استعمال 9.01 جی بی ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی، تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کی دستیابی میں کتنا موثر ثابت ہوگا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق مارچ 2026 میں فی صارف موبائل ڈیٹا استعمال 9.71 جی بی کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا تھا، تاہم اپریل میں یہ کم ہو کر 9.01 جی بی رہ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی کسی بڑے بحران کی علامت نہیں بلکہ معمول کی موسمی تبدیلی اور رمضان و عید کے بعد استعمال میں قدرتی کمی کا نتیجہ ہے۔

ٹیلی کام ماہر یوسف فاروق کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں موبائل ڈیٹا کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2018 میں فی صارف اوسط ڈیٹا استعمال صرف 3.3 جی بی تھا، جو اب تقریباً 9 جی بی تک پہنچ چکا ہے۔ اسی دوران نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) صارفین کی تعداد 69 ملین سے بڑھ کر 157 ملین ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ سروس میں عارضی سست روی کا امکان، سب میرین کیبل کی مرمت شروع
ماہرین کے مطابق رمضان اور عید کے دوران لوگوں کے پاس زیادہ فارغ وقت ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ویڈیو اسٹریمنگ، آن لائن گیمنگ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اپریل میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی کہ یہ مہینہ نسبتاً چھوٹا تھا جبکہ بعض علاقوں میں نیٹ ورک ٹاورز کی بندش اور سب میرین کیبل مینٹیننس نے بھی انٹرنیٹ رفتار کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد تقریباً 157 ملین ہے جبکہ فکسڈ براڈبینڈ کنکشنز صرف 3.6 ملین ہیں، جس کے باعث انٹرنیٹ ٹریفک کا زیادہ تر بوجھ موبائل نیٹ ورکس پر آتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ ملک میں بجلی بحران اور لوڈشیڈنگ بھی نیٹ ورک کی کارکردگی متاثر کر رہی ہے۔ بجلی بند ہونے کے دوران کئی ٹاورز صرف 2G سروس فراہم کر پاتے ہیں، جس سے 4G انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ 5G اسپیکٹرم نیلامی سے 507 ملین ڈالر حاصل کیے ہیں اور مختلف کمپنیوں نے نئے بینڈ خریدے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق بہتر نتائج کے لیے فائبر نیٹ ورک، جدید انفراسٹرکچر اور 5G سپورٹڈ موبائل فونز کی دستیابی بھی ضروری ہوگی۔










